جن یورپی ممالک نے اپنی سہولیات، جارح کے حوالے کیے ہیں انھیں جواب دہ ہونا پڑے گا: بقائی
وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دے کر کہا ہے کہ ہر اس یورپی ملک کو، جس نے اپنی سرزمین یا سہولیات، حملہ آوروں کے حوالے کی ہیں، جواب دہ ہونا پڑے گا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ روز وزیر خارجہ کی جانب سے سفیروں اور غیر ملکی سفارتی مشنز کے سربراہوں کے ساتھ ہونے والی نشست میں یورپی دارالحکومتوں سے واضح طور پر جواب طلب کیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "ہر اس یورپی ملک کو، جس نے اپنی سرزمین یا سہولیات حملہ آوروں کے حوالے کی ہیں، اپنے اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ عمل ایک آزاد اور اقوام متحدہ کے رکن ملک کے خلاف بین الاقوامی جارحیت کے جرم اور طاقت کے استعمال کے ارتکاب میں واضح شرکت اور تعاون کا مصداق ہے۔”
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر، 5 اکتوبر کو ایک ریڈیو گفتگو میں مذکورہ نشست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یہ نشست اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے واپسی کے بعد منعقد ہوئی۔ یہ معمول ہے کہ اس اہم بین الاقوامی اجلاس کے بعد تہران میں مقیم سفارت کاروں کے ساتھ نشستیں منعقد کی جائیں تاکہ ملک کے موقف اور وفد کے دورے کے دوران پیش کیے گئے اہم ترین موضوعات کی وضاحت کی جا سکے۔”
انھوں نے اس سال کے دورے کے خصوصی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: "اس سال جنرل اسمبلی میں ہماری شرکت دوہری اہمیت کی حامل تھی کیونکہ یہ ایرانیوں کی جانب سے اپنے ملک کے شاندار دفاع کے بعد اس اجلاس میں ہماری پہلی شرکت تھی اور ضروری تھا کہ ایران کی منطق اور اقتدار کو رائے عامہ اور عالمی برادری کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس تناظر میں، صدر کی تقریر کے ساتھ ساتھ صدر اور ایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے مختلف ممالک کے سربراہان، وزرائے خارجہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ 60 سے زائد اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے قومی سلامتی اور ایران کی خودمختاری کے تحفظ میں ملک کی مظلومیت اور اقتدار کو بیک وقت واضح کرنے کے لیے ایک مناسب موقع فراہم کیا۔”
بقائی نے نیویارک میں سفارتی مشاورت کے عمل کے بارے میں کہا: "امریکی صدر کی دھمکی آمیز اور گھٹیا تقریر کے بعد ہمارے ملک کے صدر کی تقریر دلیل کے ساتھ جواب دینے اور عالمی سطح پر ایران کے اقتدار کو ظاہر کرنے کا بہترین موقع تھی، جو ایک تاریخی تقریر میں تبدیل ہوگئی۔ اس تقریر کے ساتھ ساتھ مختصر مدت یعنی چھے سے سات دن کے دوران وزیر خارجہ نے مغربی ایشیا کی صورتحال، خلیج فارس کی سلامتی، آبنائے ہرمز اور دوطرفہ امور کے بارے میں تقریباً 50 غیر ملکی ہم منصبوں اور بین الاقوامی حکام کے ساتھ بات چیت کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے معمول کے حالات میں درجنوں الگ الگ اور طویل مدتی دورے کرنے پڑتے۔”



