یورپ کے تیل کے ذخائر بھی ایران سے متعلق جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کو حل نہیں کر سکیں گے۔بھی ایران سے متعلق جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کو حل نہیں کر سکیں گے۔
الجزیرہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ یورپ کے تیل کے ذخائر کا اجرا محض ایک عارضی اور سطحی حل ہے، کیونکہ توانائی کے بحران کی جڑیں ایران کے ساتھ تنازعے میں پیوست ہیں۔
الجزیرہ پر گفتگو کرتے ہوئے مغربی سفارت کاروں اور ماہرین نے نشاندہی کی کہ یورپ کے اسٹریٹجک ذخائر سے 50 ملین بیرل تیل کا اجرا صرف ایک عارضی اقدام ہے؛ توانائی کے بحران کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں۔
ایران کے ساتھ تنازعے کا آغاز ٹرمپ اور نیتن یاہو نے کیا تھا، اور اب تیل و ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
یورپ اپنے ذخائر تو جاری کر سکتا ہے، لیکن ایسا کرنے سے وہ ایران کے ساتھ جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کے نتائج سے خود کو نہیں بچا سکتا!
اصل مسئلہ اسٹریٹجک ذخائر کا نہیں ہے؛ بنیادی مسئلہ ایران کے ساتھ جنگ ہے۔



