اسماعیل بقائی: مغربی ملکوں نے این پی ٹی کے فلسفہ وجودی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مغربی ملکوں کی دوہری پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک ایک طرف تو ایسا کام کرتے ہیں کہ این پی ٹی کے فلسفہ وجودی پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اور دوسری طرف شکایت کرتے ہیں کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے بارے میں بات کیوں نہیں کی جاتی
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج اپنی پریس کانفرنس میں ایران کی ایٹمی ڈاکٹرائن کی تبدیلی اور این پی ٹی سے اس کے نکل جانے کے دعووں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے مخالفین کی تضادبیانی اور بے حیائی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ایک طرف تو وہ خود ایسا کام کرتے ہیں کہ این پی ٹی کے وجود کی ضرورت پر ہی سوال نشان لگ جاتا ہے اور اس کے بعد یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ ممالک ایٹمی عدم پھیلاؤ کی بات کیوں نہيں کرتے۔
انھوں نے کہا کہ یہ باتیں وہ کرتےہیں جنھوں نے خود این پی ٹی کو غیر موثر کردیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تین بنیادی اصول ہیں، ایٹمی ترک اسلحہ، ایٹمی اسلحے کی پیداوار کی روک تھام اور پر امن مقاصد کے لئے ایٹمی توانائی سے بہرہ مند ہونا۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ انھوں نے نہ ایٹمی ترک اسلحہ کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے،اور نہ ہی ایٹمی اسلحے کی پیداوار روکی ہے بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اپنے دوست ملکوں کوایٹمی اسلحہ رکھنے کی اجازت دی ہے اور ملکوں کے پر امن ایٹمی توانائی سے بہرہ مند ہونے کے تعلق سے، آپ دیکھئے کہ کس طرح ترقی پذیر ملکوں کے لئے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کو پر امن ایٹمی توانائی سے بہرہ مند ہونے سے روکنے کے لئے انھوں نے ہرحربہ استعمال کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہاں تک ہمارا سوال ہے،تو ہماری پالیسی بالکل شفاف ہے۔ ہم تہذیب و تمدن کے مالک ملک ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہماری ایٹمی تنصیبات میں درجنوں تخریب کاری کی گئی، جبکہ یہ سبھی تنصیبات ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی نگرانی میں کام کررہی تھیں اور ان میں، این پی ٹی کی بنیاد پر سیف گارڈ کی مکمل پابندی کی جارہی تھی۔ بنابریں،ان حالات میں، اگر ہمارے دانشور، وہ لوگ جو کسی پوزیشن میں ہیں، اگر سیاسی اور ابلاغیاتی ذرائع سے گفتگو میں، ان موضوعات پر کچھ بولیں تو میں نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ عجیب وغریب بات ہوگی۔