بقائی:عمان اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر منسوخ ہوا ہے
ترجمان وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے راستے کے بارے میں سمجھوتے کو آخری شکل دے لی ہے اور اس کے اعلان کے طریقے کے بارے میں ہم فیصلہ کریں گے
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر 14ستمبر کو اپنی ہفتے وار پریس کانفرنس میں خارجہ روابط کے تازہ ترین تغیرات، فیصلوں اور وزارت خارجہ کے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔
انھوں نے خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں جہازرانی کے لئے وجود میں آنے والی بدامنی کے بارے میں کہا کہ امریکا نے جزیرہ ہنگام کے قریب ایک جہاز پر حملہ کیا جس میں ہمارا ایک ہم وطن شہید اور چند زخمی ہوگئے جن میں دو پاکستانی ہیں جو اس بحری جہازپر کام کرتے تھے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ امریکا نے اپنی سرحدوں سے ہزاروں کلومیٹر دور لشکر کشی کی ہے اور جہازرانی کی سلامتی کے تعلق سے تشویش ظاہر کرتا ہے لیکن ہمارے سرحدی علاقوں میں ایران بحری جہازوں پر حملے کرتا ہے اور اس طرح آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو جارحیت کا نشانہ بنا رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے خلیج فارس کے ساحلی ملکوں کا اجلاس منسوخ ہونے کے بارے میں کہا کہ اس سلسلے میں جو خبریں نشر ہوئی ہیں، وہ صحیح ہیں۔ سعودی عرب نے درخواست کی کہ فی الحال یہ اجلاس منعقد نہ کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ سعودیوں اور یمن کے درمیان جو کچھ ہورہا ہے، اس سے جو نسبت دی جارہی ہے، وہ منحرف کرنے کی کوشش ہے۔ حقائق سے توجہ ہٹانے سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
ترجمان وزار خارجہ نے کہا کہ ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حیثیت سے کوشش کی اور عملا ثابت کیا کہ ہم مسائل حل کرنے میں مدد کے لئے تیار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلامی ملکوں کے درمیان جنگ میں جیت صرف صیہونی حکومت کی ہے جو چاہتی ہے کہ ہمارے علاقے میں اسلامی ملکوں کے درمیان بدامنی جاری رہے۔
اسماعیل بقائی نے عراقی سرزمین سے سعودی عرب کی پائپ لائن پر حملے کے تعلق سے جو دعوے کئے جارہے ہیں، ان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی مستقل طور پرجھوٹے دعوے کررہے ہیں اور جھوٹی خبریں نشر کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جو امریکا ہمارے علاقے کے ملکوں کے درمیان اختلافات بڑھانے کے لئے مستقل طور پر جھوٹی خبریں گڑھ رہا ہے، وہ ان مسائل کا نتیجہ ہے جو ہمارے علاقے میں پائے جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ خطے کے ملکوں کو چاہئے کہ اپنے مسائل خود حل کریں۔ ورنہ دوسری صورت میں وہ طاقتیں جو علاقے کی بھلائی نہیں چاہتیں،مستقل طورپر جھوٹی خبریں پھیلا کر حالات کی پیچیدگی بڑھاتی رہیں گی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ان واقعات میں ایران کی مداخلت کے بارے میں امریکا نے جو دعوے کئے ہیں، وہ صحیح نہیں ہیں اور ہم سختی سے ان کی تردید کرتے ہیں۔
ترجمان وزارت خارجہ نے ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کا ناقص اور حقائق کے منافی بیان خود اس بات کا سبب بنتا ہے کہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل اگر تکنیکی اور منصفانہ نقطہ نگاہ سے اس موضوع کا جائزہ لینا چاہتے ہیں تو پہلے، امریکا اور صیہونی حکومت کے غیر قانونی اقدام کی مذمت کریں؛ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی مذمت کریں جو کسی بھی اصول کے مطابق قابل توجیہ نہیں ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہر کچھ دن کے بعد امریکی حکام ایران کو جو دھمکیاں دیتے ہیں، ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی جو دھمکیاں دیتے ہیں، وہ قابل گرفت ہیں اور ضروری ہے کہ ان کے خلاف آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل موقف اختیار کریں۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات ہمیں ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے کہ کوہ کلنگ گزلا کے بارے میں جو باتیں کی جارہی ہیں، وہ امریکا کی نفسیاتی اور ابلاغیاتی جنگ کا حصہ ہیں اور وہ اس سلسلے میں ہر کچھ دن بعد نئے جھوٹ کے انبار لگاتے ہیں اور ایک نئی بحث شروع کرتے ہیں، اس کا مقصد ماحول بنانا اور اس غلط بیانی کا سلسلہ جاری رکھنا جو واقعی اب ان کے لئے دشوار ہوتا جارہا ہے۔ وہ تیس سال سے یہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ایران ایٹم بم بنارہا ہے۔ لیکن اب تک ایران کے ایٹمی پروگرام میں پر امن اہداف سے معمولی سے بھی انحراف کا ثبوت نہیں ملا ہے حتی جو تازہ رپورٹ پیش کی گئی ہے ، اس میں بھی، ایک بار بھی نہیں کہا گیا ہے کہ ایران عدم پابندی کا مرتکب ہوا ہے۔