غزہ اور حماس کے خلاف نیتن یاہو کا”خطرناک منصوبہ”
"رائے الیوم” نے غزہ اور حماس کے خلاف نیتن یاہو کے "خطرناک منصوبے”پر رپورٹ دے دی ۔
اخبار ’رائے الیوم‘ نے آج، ہفتے کے روز، فلسطینی اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دے دی کہ حماس تحریک کو گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایک عرب ملک کی جانب سے انتباہی پیغام موصول ہوا ۔
ایک نامعلوم ملک نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ صیہونی حکومت آنے والے دنوں میں غزہ کی پٹی میں ایک "بڑے اور خطرناک” منصوبے پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ملک کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت اگلے مرحلے میں غزہ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ کرے گی۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے آئندہ انتخابات جیتنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں—خواہ اس کے لیے جنگ کا ایک نیا محاذ ہی کیوں نہ کھولنا پڑے۔
ان ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نیتن یاہو نے اس منصوبے پر غور کرنا اس وقت شروع کیا جب وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران اور لبنان کے ساتھ جنگ کی آگ بھڑکانے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق، نیتن یاہو کا ارادہ ہے کہ وہ پتنگوں کے معاملے کو غزہ کی پٹی پر شدید حملے کرنے اور قوم پرست گروہوں کے رہنماؤں اور سکیورٹی حکام کی ٹارگٹ کلنگ (ہدف بنا کر قتل کرنے) کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کریں۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ سے صہیونی بستیوں کی جانب پتنگیں اڑائی گئی تھیں، اگرچہ ان پتنگوں میں دھماکہ خیز مواد موجود نہیں تھا۔
اس کے باوجود، گزشتہ اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں، نیتن یاہو اور اسرائیل کاٹز نے جو حکومت کے وزیر جنگ ہیں، نے دھمکی دی تھی کہ وہ ان پتنگوں کے جواب میں غزہ میں قاتلانہ کارروائیاں تیز کر دیں گے اور رہائشی محلوں کو خالی کر دیں گے۔ منگل کو اقوام متحدہ نے اسرائیل کی طرف سے غزہ کے ان علاقوں کو خالی کرنے کی دھمکی کی مذمت کی جہاں سے پتنگیں، ڈرون اور غبارے چلائے جاتے ہیں۔ نیتن یاہو کی دھمکیوں کے بعد حماس کے ترجمان حازم قاسم نے پتنگوں کے حوالے سے اسرائیل کی دھمکیوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی طور پر مہاجر کیمپوں کے بچوں کے کھلونے ہیں۔
قاسم نے مزید کہا کہ بہانے تراش کر دی جانے والی یہ دھمکیاں مسلسل جارحیت اور ہمارے عوام کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو جائز قرار دینے کی ایک کوشش ہیں۔ انہوں نے امریکی حکومت، ثالثی اور ضمانت دینے والے ممالک اور امن کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ ان اقدامات کو روکا جا سکے۔
مذکورہ عرب ملک نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس منصوبے کے حوالے سے چوکس رہے اور نیتن یاہو کے بچھائے گئے جال میں پھنسنے سے گریز کرے؛ یہ ایک ایسی سازش ہے جس کا مقصد غزہ میں جنگ کو دوبارہ بھڑکانا ہے تاکہ اس سے آئندہ انتخابات میں صہیونی رہنما کو بھاری فائدہ پہنچ سکے۔ ’رائے الیوم‘ کے مطابق، حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا صبر جواب دے رہا ہے اور ثالثوں کو چاہیے کہ وہ — بہت دیر ہونے سے پہلے — نیتن یاہو کو لگام ڈالیں اور غزہ کی پٹی میں کشیدگی میں اضافے کو روکیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کی مکمل پاسداری کے لیے پرعزم ہے، لیکن اسے اسرائیل کی جانب سے کسی بھی ممکنہ دھوکے یا بدعہدی پر تشویش لاحق ہے، جس کی وجہ نیتن یاہو کے ذاتی اور جماعتی مفادات ہیں۔