فلسطینی فٹبال کھلاڑی شہید

فلسطین فٹبال

غاصب اسرائیلی فوج نے ایک اور فلسطینی کھلاڑی خان یونس سروس کلب کے گول کیپرسلیم خضر الاشقر کو گولی مارکر شہید کردیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی وفا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے غزہ شہر خان یونس کے شمال مشرق میں واقع قصبہ القرارہ میں فلسطینی گول کیپر سلیم خضر الاشقر کو گولی مار کر قتل کر دیا۔  32 سالہ کھلاڑی اپنے فٹ بال کیریئر کے دوران الاقصیٰ اور المصدر اسپورٹس کلب کی نمائندگی کر چکے تھے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ الاشقر کی شادی صرف پانچ ماہ قبل ہوئی تھی اور وہ اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا انتظار کر رہے تھے۔ الاشقر سات بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔

خبر رساں ادارے وفا کے مطابق الاشقر کی شہادت کے ساتھ ہی اکتوبر 2023  میں غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک کھیلوں سے تعلق رکھنے والے شہید فلسطینیوں کی تعداد 1009 ہو گئی ہے، جن میں567 فلسطینی کھلاڑیوں کا تعلق فٹ بال سے تھا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل کے ظالمانہ حملوں میں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور ایک لاکھ 75 ہزار سے  زیادہ خمی ہوئے ہیں، ان میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے بمباری کے ذریعے پورے غزہ کے شہری نظام کو تباہ کردیا ہے۔

اسرائیل کے حملوں کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں میں ایک بڑی تعداد مختلف شعبوں سے وابستہ سرکردہ افراد کی ہے، ان میں ایک نمایاں شعبہ کھیل کا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اب تک ایک ہزار سے زیادہ کھلاڑیوں کو شہید کیا ہے جو مختلف کھیلوں سے وابستہ تھے۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے