جنوبی کوریا کا ملکی کشتی پر ایرانی حملے سے متعلق ٹرمپ کا دعوی ماننے سے انکار

1-.png

1-.png

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون (Cho Hyun) نے خلیج فارس میں کورین کشتی پر حملے میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی امریکی دعوی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ جنوبی کوریا نے ابھی تک اس بات کا تعین نہیں کیا کہ اس واقعے کا ذمہ دار کون ہے۔ امریکی دعوے کے برخلاف اس بات پر زور دیتے ہوئے اس حوالے سے مزید درست تحقیقات کی ضرورت ہے، جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اب بھی ایسے شواہد موجود ہیں جن کا ہمیں زیادہ احتیاط کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور ہم ان کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے یہ تبصرہ اپنے اس اعلان کے ضمن میں جاری کیا کہ گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں موجود جنوبی کوریا کے ایک کارگو جہاز پر 2 نامعلوم پروجیکٹائل کے حملے کے باعث، اس کے انجن روم میں دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے مطابق اس کے بحری جہاز پر حملہ کرنے والے فریق کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی البتہ جائے وقوعہ سے ملنے والے پراجیکٹائل اور انجن کی باقیات کا مزید تجزیہ و تحلیل کیا جائے گا۔

قبل ازیں اس بارے انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ ایران نے ہی اس بحری جہاز اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد امریکی صدر نے جنوبی کوریا سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے امریکہ کے مبینہ "آزادی پروجیکٹ” میں شامل ہونے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

ادھر جمعرات کے روز سیول میں واقع ایرانی سفارتخانے نے آبنائے ہرمز میں کوریائی جہاز پر حملے میں ایرانی مسلح افواج کے کسی بھی قسم کے کردار کی سختی کے ساتھ تردید کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے