ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں تھک چکا ہے، امریکی میڈیا

2.jpg

2.jpg

معروف امریکی مجلے دی اٹلانٹک نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ اپنی عوامی بیان بازی کے برخلاف، ایران کے خلاف جنگ ​​سے انتہائی "اُکتا” چکا ہے۔ امریکی حکومت سے باہر وائٹ ہاؤس کے 5 معاونین اور مشیروں کے انٹرویوز پر مبنی یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ ایک ایسے مخمصے میں پھنس چکا ہے کہ جس میں اس کے پاس آگے بڑھنے کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی اور واپسی کا۔ دی اٹلانٹک کا لکھنا ہے کہ وہ معاہدے کے لئے بے چین ہے لیکن تہران اس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ "وینزویلا ماڈل” سے لے کر آبنائے ہرمز میں کشمکش تک کی پوری داستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امریکی مجلے نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کے مشیروں نے انکشاف کیا ہے کہ اس تنازعے کے آغاز میں امریکی صدر کا خیال تھا کہ ایران کے خلاف جنگ ​​کاراکاس میں نکولس میڈورو کی گرفتاری کے آپریشن جیسی ہی ہو گی.. فوری اور بے دردِ سر!!

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہہ رکھا تھا کہ جنگ "ایک اور وینزویلا” ہو گی اور اُسے توقع تھی کہ 2 ہفتوں میں ہی ایرانی حکومت گر جائے گی جبکہ اہم نکات میں سے ایک "پروجیکٹ فریڈم” کو اچانک روک ہی دیئے جانے کی "وجہ” ہے، ایک ایسے وقت میں کہ جب وائٹ ہاؤس اس کی وجہ "سفارتکاری” بتا رہا ہے۔ دی اٹلانٹک نے انکشاف کیا کہ اس فوجی آپریشن کے فوری طور پر روک دیئے جانے کی اصلی وجہ، ایرانی میزائلوں کی جانب امریکی جنگی کشتیوں کو نشانہ بنایا جانا اور ایک "مکمل جنگ” چھڑ جانے کا خوف تھا۔ دی اٹلانٹک نے لکھا کہ ٹرمپ نے ایرانی کشتیوں کے ساتھ فوجی جھڑپ اور جنوبی کوریا کے ایک بحری جہاز پر ایرانی فورسز کی مبینہ فائرنگ کے بعد اس آپریشن کو فوری طور پر روک دینے کا حکم دیا تھا کیونکہ "مکمل جنگ” کا یہ خدشہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس وقت امریکہ کے خلیجی اتحادیوں نے بھی، ایرانی جوابی کارروائی کے خوف سے، اپنے فوجی اڈوں تک امریکہ کی رسائی کو "محدود” کر دیا ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے