ہم نے ایرانی صلاحیتوں کا "غلط” اندازہ لگایا، اسرائیلی میڈیا کا اعتراف

2.jpg

2.jpg

عبری زبان کے معروف اسرائیلی چینل آئی 24 (I24) نے مغربی سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل؛ مزاحمت اور تحمل سے متعلق ایرانی قوم و حکومت کی اعلی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں "فاحش غلطی” کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مغربی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے اسرائیلی چینل نے کہا کہ تہران طویل مدت تک لچک کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہے تاکہ کسی بھی ایسے معاہدے تک پہنچ سکے کہ جو اس کے لئے "فائدہ مند” ہو!

دریں اثنا، عبری زبان کے اسرائیلی اخبار ہآرٹز کے عسکری تجزیہ کار عاموس ہیریل نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ، جنگ کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے اور اسرائیل کو واضح طور پر اشارہ دے رہا ہے کہ وہ دوبارہ سے اس تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتا۔

اس بارے قابض اسرائیلی رژیم کے چینل 13 نے دعوی کیا کہ اسرائیلی حلقوں میں یہ گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کا تبادلہ اب ختم ہو چکا ہے اور دونوں فریقوں نے اپنے حملے بند کر دیئے ہیں۔

مزید برآں عبری زبان کے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت (Yedioth Ahronoth) کے کالم نویس ناحم برنیاع کا بھی لکھنا ہے کہ جیسا کہ ایران کا معاملہ تھا، اسی طرح حزب اللہ کے حوالے سے بھی ہوا؛ کیونکہ فیصلہ سازوں نے دشمن کی طاقت اور لچک کو "کم اندازہ لگانے” کی سنگین غلطی کی ہے۔ ناحم برنیاع کے مطابق، انٹیلیجنس سروس کسی (مزاحمتی) کمانڈر کو قتل کرنے کے قابل تو ہو سکتی ہے لیکن وہ مزاحمت کی طاقت، صلاحیت اور تحمل کے میزان کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

اپنی ایک دوسری رپورٹ میں یدیعوت احرونوت نے لکھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں موجود امید کے برعکس، اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ، جنگ کی بحالی کو صرف ایک "آخری اختیار” ہی گردانتا ہے کیونکہ وہ جنگ چاہتا ہی نہیں۔ اس اخبار نے مزید لکھا کہ اسرائیل، ایران کے ساتھ ایک "خراب معاہدے” تک پہنچنے کے بارے میں بھی سخت فکر مند ہے کیونکہ ایسا کوئی بھی معاہدہ ایران کو اربوں ڈالر کے مالی وسائل فراہم کر سکتا ہے۔ عبری زبان کے صیہونی میڈیا کے مطابق اس حوالے سے اسرائیل میں ایک اور گہری تشویش بھی پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس طرح کے کسی بھی معاہدے میں "بیلسٹک میزائلوں کے معاملے” کا احاطہ بھی نہیں کیا جا سکے گا!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے