پوٹن اور پھر چینی صدر سے ٹرمپ کی فون کالز:
پوٹن اور پھر چینی صدر سے ٹرمپ کی فون کالز:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور پھر چینی صدر شی جن پنگ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تاکہ وہ ایران کے ساتھ ایک نیا جوہری معاہدہ کرنے کے لیے مدد حاصل کر سکیں۔
🔹 وائٹ ہاؤس کی منصوبہ بندی ناکام:
یہ رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ "نرم اور یکطرفہ” معاہدہ حاصل کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ وہ ایران سے صرف اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں، بغیر اس کے کہ ایران کی اہم شرط یعنی پابندیاں ختم کرنے پر کوئی واضح بات ہو۔
🔹 امریکا کی طرف سے نامکمل اور یکطرفہ تجویز:
امریکی تجاویز میں صرف واشنگٹن کے مطالبات شامل تھے، جبکہ ایران کے مفادات، خاص طور پر پابندیاں اٹھانے کے مسئلے پر کوئی صاف مؤقف پیش نہیں کیا گیا، جس پر ایران نے صاف انکار کر دیا۔
🔹 روس اور چین کی بے اعتمادی:
روس اور چین دونوں جانتے ہیں کہ امریکا کا اصل مقصد کیا ہے۔ وہ امریکا پر اعتماد نہیں کرتے، خاص طور پر کیونکہ واشنگٹن نے ماضی میں ان کے ساتھ بھی غیر ذمہ دارانہ اور معاندانہ رویہ اپنایا ہے۔ روسی میڈیا نے تو یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے روسی ائیربیسز میں تخریب کاری میں ملوث ہیں۔
🔹 ایران کی مضبوط پوزیشن:
ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایران کمزور ہو چکا ہے اور جلد ہی جھک جائے گا، لیکن ایران ایک مضبوط، متحد اور خودمختار موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ امریکی میڈیا اور خفیہ اداروں کی پروپیگنڈا مہم بھی ایرانی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکی۔
