امریکی اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (خام تیل کے تزویراتی ذخائر) 44 سال کی کم ترین سطح پر آگئے: جمیل اختر
وزارتِ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں سپلائی کے عالمی بحران اور آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت میں رکاوٹوں کے باعث، امریکہ کا ہنگامی تیل کا ذخیرہ تقریباً 44 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے مارچ میں خام تیل کی فراہمی شروع کیے جانے کے بعد سے ’اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو‘ (ایس پی آر) کا حجم تقریباً ایک تہائی سکڑ چکا ہے۔
امریکی حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، 25 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران یہ ذخیرہ کم ہو کر 283.8 ملین بیرل رہ گیا، جو اکتوبر 1982 کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔ یہ حجم مارچ کے وسط کے 415.4 ملین بیرل سے تقریباً 32 فیصد اور 2009 کے آخر میں موجود 726.6 ملین بیرل کے تاریخی ریکارڈ سے 61 فیصد کم ہے۔
واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے 1975 میں عرب ممالک کی جانب سے تیل کی ناکہ بندی کے بعد سپلائی کی شدید معطلی سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی حفاظتی ڈھال کے طور پر اس ریزرو کو قائم کیا تھا۔ ٹیکساس اور لوزیانا میں خلیجی ساحل کے ساتھ واقع زیرِ زمین نمکین غاروں میں 700 ملین بیرل سے زائد تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھنے والے اس ریزرو سے حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر تیل نکالا گیا ہے۔
سپلائی کے اس بحران کے جواب میں، واشنگٹن نے 11 مارچ کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ارکان کی جانب سے 400 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں لانے کے مشترکہ فیصلے کے تحت 172 ملین بیرل تک تیل فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ امریکی خام تیل کا بڑا حصہ براہِ راست فروخت کرنے کے بجائے تبادلے کے معاہدوں کے تحت دیا جا رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کو یہ تیل بعد میں اضافی بیرلز (پریمیم) کے ساتھ واپس کرنا ہو گا۔
اس تنازع کے دوران دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے گرے ہیں۔ گولڈمین سیکس(Goldman Sachs) نے مئی میں تخمینہ لگایا تھا کہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے دستیاب ذخائر میں یومیہ 8.7 ملین بیرل کی ریکارڈ کمی ہو رہی ہے، جو فروری میں ایران جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کے بعد سے اوسط شرح سے تقریباً دوگنی ہے۔ اگرچہ اس کے بعد سے تیل کی سپلائی میں کچھ بہتری آئی ہے، لیکن یہ اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ توانائی کے تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے اندازے کے مطابق، ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات 12.8 ملین بیرل یومیہ رہیں، جو جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ ہیں، لیکن یہ اب بھی فروری میں ریکارڈ کی گئی 18.8 ملین بیرل یومیہ کی سطح سے تقریباً 6 ملین بیرل کم ہیں۔
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر میں آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی برآمدات اوسطاً 7.4 ملین بیرل یومیہ رہنے کا امکان تھا۔ اس کے باوجود، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے ریکارڈ تیل کی ترسیل کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، "گزشتہ رات ہم نے آبنائے ہرمز سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالا، جو جنگ سے پہلے نکالی گئی مقدار سے بھی زیادہ ہے،”صدر ٹرمپ نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ تنازع ختم ہونے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی۔
محکمہ توانائی کو توقع ہے کہ تبادلے کے پروگرام کے تحت بالآخر تقریباً 200 ملین بیرل تیل اسٹریٹجک ریزرو میں واپس آ جائے گا۔ تاہم، یہ واپسی مؤخر ہو گی، جس کی وجہ سے امریکہ کے پاس عارضی طور پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہت کم حفاظتی ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔ مزید یہ کہ ریزرو میں گنتی کیے جانے والے خام تیل کا سارا حصہ فوری طور پر قابلِ استعمال نہیں ہے۔ گورنمنٹ اکاؤنٹابلیٹی آفس (جی اے او) نے جون میں انکشاف کیا تھا کہ تعمیری کام اور غاروں کی خرابی کے باعث، دسمبر 2025 تک اسٹریٹجک ریزرو کا ایک چوتھائی سے زیادہ تیل ناقابلِ رسائی تھا۔ واچ ڈاگ نے اندازہ لگایا ہے کہ ریزرو سے تیل نکالنے کی اصل صلاحیت اس کی طے شدہ رفتار کا صرف 61 فیصد رہ گئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے معاملے پر ’انتہائی سنجیدگی‘ سے غور کر رہے ہیں۔
روس اور مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی کا تعطل پہلے ہی برقرار ہے، ایسے میں اگر امریکہ نے بھی سپلائی لائن کاٹی تو یورپ کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ نومبر کے وسطی انتخابات سے قبل ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر، وائٹ ہاؤس اب بھی ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے معاملے پر "انتہائی سنجیدگی” سے غور کر رہا ہے۔ دنیا کے اس سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک کی جانب سے سپلائی کی ممکنہ بندش عالمی سطح پر ایندھن کی قلت کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جس سے درآمدات پر انحصار کرنے والے یورپی ممالک کے لیے سپلائی کا حصول ایک کڑا چیلنج بن جائے گا۔
حالیہ دنوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں یہ بے پناہ اضافہ ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی بحران کا نتیجہ ہے، جس نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری تجارتی آمد و رفت کو شدید متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب، ڈیزل کے بڑے برآمد کنندگان میں شمار ہونے والے ملک روس نے بھی اپنی ریفائنریوں پر یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد اندرونی مارکیٹ کو سنبھالنے کے لیے ایندھن کی ترسیل محدود کر دی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکی ڈیزل کی پیداوار ملکی ضرورت کو بمشکل ہی پورا کر پا رہی ہے، جس سے یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ برآمدات میں اضافہ ملکی سطح پر سپلائی کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
اتوار کے روز شکاگو کے قریب ‘پریزیڈنٹس کپ’ گالف ٹورنامنٹ کے دوران ایک فاکس نیوز رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ان کی انتظامیہ اس اقدام کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ اس فیصلے سے پیٹرول کی قیمتوں میں کچھ اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم "ہم اس پر بہت سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ یہ قدم اٹھا لیں۔” ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات سے قبل پہلی بار اس خیال کا اظہار کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا تھا، "میں نے کہا ہے کہ ہمیں اب ڈیزل باہر نہیں بھیجنا چاہیے۔”
یہ امکانی اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ‘انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن’ کے اعداد و شمار کے مطابق، 21 ستمبر کو ملک بھر میں ڈیزل کی اوسط قیمت ریکارڈ 6.529 ڈالر فی گیلن (1.72 ڈالر فی لیٹر) تک جا پہنچی، جو محض پانچ ہفتے قبل 5.454 ڈالر تھی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر کم ہوتی ہوئی سپلائی اور خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔
عالمی سطح پر ڈیزل کی برآمدات روکنے کے اس امکانی فیصلے پر امریکی شعبہ توانائی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ‘امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ’ نے متنبہ کیا ہے کہ اس طرح کی پابندی ریفائنریوں کو ڈیزل، پیٹرول اور جیٹ فیول کی پیداوار کم کرنے پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف خود امریکہ کے اندر ایندھن کا قحط پیدا ہوگا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کا بحران بھی شدید تر ہو جائے گا۔



