مولانا محمد خان شیرانی نے مکہ معاہدے اور مسلم ممالک کے درمیان نیٹو طرز کے ممکنہ نئے اتحاد سے متعلق اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں مسلم ممالک کے باہمی تعلقات اور دفاعی تعاون کے حوالے سے نئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے
مولانا محمد خان شیرانی نے مکہ معاہدہ کے ممکنہ اہداف کے بارے بات کرے ہوئے کہا کہ اس معاہدہ کے تین اہداف ہیں سب سے پہلے اس معاہدے کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک کا دفاعی بوجھ امریکہ پر کم سے کم ہو بلکہ امریکہ اس اضافی بوجھ کو ختم کرنا چاہتا ہے اس لئے سعودی و دیگر ممالک کا پاکستان سے معاہدے کرواکر خود نکلنا چاہتا ہے
دوسرا امکان یہ ہے کہ امریکہ سنی اکثریتی ممالک کا معاہدہ کرواکر ایران کے مقابلے میں کھڑا کرنا چاہتا ہے تاکہ شیعہ سنی کے نام سے جنگ کرکے ایران کو کمزور کریں خود پیچھے سے خلیجی ممالک اور پاکستان ترکی کی معاونت جاری رکھے
تیسرا امکان یہ ہے کہ امریکہ کا ایران کو ختم یا کمزور کرنے کے بعد ان کا ہدف ترکی ہے۔ پہلے شیعہ سنی کے نام تقسیم پیدا کرینگے پھر سعودیہ اور پاکستان کو الگ کرکے ترکی کو تنہا کرینگے اور اس کے بعد امریکہ ترکی کے ساتھ وہی کریگا جو اس سے پہلے ایران افغانسان و دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ کرچکا ہے۔
چوتھا امکان ہے کہ اکثر سنی ممالک اس معاہدے میں شامل ہونگے اس کے مقابلے میں عیسائی صیہونیست اور یہودی صیہونیوں کا اتحاد وجود میں آئیگا جس کا مقصد گریٹر اسرائیل ہوگا اور مسلم ممالک کا مقصد اپنے اپنے مفادات ہونگے مگر مسلمان اپنی دوغلہ پالیسیوں اور مفاد پرستی کی وجہ سے ہار جاینگے اور عیسائی و یہودی اپنے مقصد میں کامیاب ہونگے۔ یہ امریکہ کے مستقبل کے اہداف ہیں اب امریکہ اس میں کتنا کامیاب ہوتا ہے یہ وقت بتائیگا البتہ اتنا ضرور ہے کہ مکہ معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نہیں ہے بلکہ معاہدہ کے ذریعے امریکہ اپنی مفادات کا تحفظ کرینگے
انہوں نے مکہ معاہدے کے ممکنہ اثرات اور مسلم دنیا کے درمیان مشترکہ حکمتِ عملی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے کی اہمیت مزید واضح ہوگی



