مقبوضہ فلسطین میں جنگی وسائل کی قلت

173107245

  اسلحے اورجنگی وسائل کی قلت کا بحران مقبوضہ فلسطین بھی پہنچ گیا

 امریکا کے اسلحے اور جنگی وسائل کی قلت کے بحران کے درمیان ایک صیہونی میڈیا نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جنگی ہیلی کاپٹروں کا ایک معاہدہ رک جانے کی خبر دی ہے

ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے نتیجے میں امریکی اسلحے اور جنگی وسائل کی قلت کے بحران نے غاصب صیہونی حکومت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

  صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل 12 نے رپورٹ دی ہے کہ تل ابیب امریکا سے  12 اپاچی جنگی ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے معاہدے میں ناکام ہوگیا ہے۔   

 اس رپورٹ کے مطابق یہ 12 اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر امریکا کی بوئنگ کمپنی تیار کرنے والی تھی لیکن معینہ وقت کے اندر سرمایہ فراہم نہ ہونے کی بناپریہ کام نہ ہوسکا۔

صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل 12 کا کہنا ہے کہ اگر سمجھوتے کو بچانے کے لئے غیر معمولی مداخلت نہ کی گئی تو ممکن ہے کہ یہ جنگی ہیلی کاپٹر اسرائیلی فوج کو تین سال کی تاخیر سے ملیں۔

صیہونی حکومت کا ٹی وی چینل 12 اس سے پہلے بھی، امریکا سے خریدے جانے والے جنگی وسائل کی تحویل میں تاخیر کی رپورٹ دے چکا ہے۔

  یہ ایسی حالت میں ہے کہ صیہونی حکومت کے کان 11 ٹی وی چینل نے بھی رپورٹ دی تھی کہ بجٹ کی شدید قلت اور مالی ناتوانی کے باعث، اسرائیلی فوج، کئی بٹالین مرکاوا ٹینک نان آپریشنل کرنے والی ہے۔

اسی طرح "البیت سسٹمز” نامی کمپنی  نے بھی مرکاوا ٹینکوں، توپوں نیز مارٹرکے گولوں کی پیداوار رک جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

صیہونی حکومت کے کان ٹی وی چینل نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ فوج ڈیفنس انڈسٹریز کی 15 ارب شکل کی مقروض ہے اور یہ صورتحال جاری رہی تو، فوج ایک ساتھ کئی محاذ پر آپریشنل آمادگی باقی نہیں رکھ سکے گی۔   

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے