ایران نے گھٹنے نہیں ٹیکے، ٹرمپ مایوس

ttttttttt

ایران نے گھٹنے نہیں ٹیکے، ٹرمپ مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں: دی اٹلینٹک جریدہ

سیاسی تبصروں پر مشتمل "دی اٹلینٹک جریدے” نے لکھا ہے کہ امریکی صدر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی جانب سے بری طرح مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہوچکے ہیں۔

دی اٹلینٹک جریدے کے مضمون میں آيا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ تمام شور ہنگاموں کے باوجود، وہ سیاسی اور ذاتی خوف اور بدامنی سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔

مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ٹرمپ اپنی خوداعتماد کھو چکے ہیں اور اس کی اصل وجہ ایران کے مقابلے میں ان کی ناکامی ہے۔

دی اٹلینٹک کے مطابق، ٹرمپ انتخاباتی اجتماعات سے بہت خوش ہوتے ہیں جہاں ان کے حامی ان کا دل بڑھاتے ہیں یہاں تک کہ وہ طے شدہ مضمون سے ہٹ کر جوشیلی فی البدیہ تقریر شروع کردیتے ہیں۔

ان کے قریب موسیقی اور مجمع کا ہنگامہ کی وہی پوزیشن ہے جو ایک پیاسے کے لیے پانی کی ہوتی ہے۔

مضمون نگار نے لکھا ہے کہ لیکن انہوں نے اپنی تازہ ترین تقریر میں جو ری پبلیکنز کے وسط مدتی دو روزہ اجلاس کے دوران انجام پائي حد سے زیادہ اپنا دفاع کرنا شروع کردیا جو اس بات کی علامت ہے کہ انہیں اپنے سیاسی مستقبل اور ذاتی بدامنی سے بری طرح خوف لاحق ہے۔

دی اٹلینٹک کے مضمون میں آیا ہے کہ جس صدر میں خوداعتمادی پائی جاتی ہو اسے اس طرح کے مصنوعی جلسوں کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ کامیابی کی صورت میں 5000 ڈالر دینے کے وعدے نہیں کرتا اور ایران سے جنگ میں امریکی ہتھیاروں کو پہنچنے والے نقصانات کی تصاویر منظرعام پر آنے کے بعد بڑے بول نہیں بولتا اور آبنائے ہرمز کو "آبنائے ٹرمپ” کہنے پر زور نہیں دیتا۔

مذکورہ مضمون میں آیا ہے کہ ٹرمپ نے انتخاباتی جلسے کے بیچ اچانک تقریر روک کر اپنے حامیوں کے اجتماع سے کہا کہ قسم کھائيں کہ انہیں کو ووٹ دیں گے اور بقول ان کے امریکہ کی تاریخ کے سب سے بڑے صدر کی پیروی کریں گے۔

مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اس نوعیت کی باتیں ٹرمپ کو لاحق عدم تحفظ اور خوف کے احساس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

درحقیقت ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے یہ نہیں کہا کہ ری پبلیکن امیدواروں کی صلاحیت کی بنیاد پر ووٹ دیں بلکہ ان کا معیار، ڈانلڈ جے ٹرمپ سے وفاداری تھی۔

مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کی اس رات کی حرکتوں اور بے بسی سے یقینا سب سے زیادہ ڈیموکریٹ پارٹی ہی خوش ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے