اسرائیل کا لبنان پرسفید فاسفورس کا استعمال
دو بین الاقوامی اداروں کا اعتراف: اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں 23 بار سفید فاسفورس کا استعمال کیا
حال ہی میں شائع ہونے والی ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت نے لبنان پر اپنی حالیہ جارحیت میں سفید فاسفورس بموں کا استعمال کیا ہے جس کے بعد ایسے مہلک ہتھیاروں کے کنٹرول کی غرض سے بین الاقوامی قانون بنانے کی ضرورت میں دوگنا اضافہ ہوگیا ہے۔
روزنامہ الشروق کے حوالے سے ارنا کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہیومن رائٹس واچ اور ہارورڈ لاء اسکول کے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کلینک کی جانب سے "برنز آؤٹ آف کنٹرول: سفید فاسفورس کے ذخیرے کے غیر انسانی اثرات اور مضبوط قانون کی ضرورت”، عنوان سے تیار کردہ 45 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں مارچ اور مئی 2026 کے درمیان جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے ان ہتھیاروں کے استعمال کے 23 تصدیق شدہ کیسز کو دستاویزی شکل دی گئی۔
رپورٹ میں حالیہ برسوں کے دوران مسلح تنازعات میں مذکورہ مواد کے استعمال کے ہولناک نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آکسیجن کے ساتھ تعامل کے نتیجے میں شدید آگ بھڑکانے والا سفید فاسفورس بموں کا استعمال روکنے کے حوالے سے فی الحال کوئی قانونی موجود نہیں ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے سینئر مشیر اور ہارورڈ ہیومن رائٹس کلینک کے ایک لیکچرر، بونی ڈوکریٹی کا کہنا ہے کہ "سفید فاسفورس بم انتہائی تکلیف دہ جھلساؤ اور زندگی بھر کے لیے جسمانی، نفسیاتی، سماجی اور معاشی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کی حکومتوں کو ان ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت اور اس مسئلے پر مزید بین الاقوامی مذاکرات کا مطالبہ کرنا چاہیے تاکہ ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو روکا جاسکے۔
رپورٹ کے مطابق 2000 سے سفید فاسفورس کے استعمال کے واقعات کی نشاندھی کی گئی ہے جس میں اسرائیل کی طرف سے 2008-2009 اور 2023 غزہ میں اس کا استعمال شامل ہے۔ جبکہ 2017 امریکی زیر قیادت اتحاد نے عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ گروپ کے خلاف ان بموں کا استعمال کیا۔ سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے سن 2016 میں یمن کے خلاف سفید فارسفورس بم استعمال کیے۔ 2007 میں ایتھوپیا کی فوج نے صومالیہ میں، نیٹو اور خاص طور سے امریکی فوج نے 2005 سے 2011 کے درمیان افغانستان میں اور 2004 میں امریکہ نے عراق میں فاسفورس بموں کا استعمال کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ واقعات نے ایسے مہلک ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے بین الاقوامی قانون بنانے کی ضرورت میں دوگنا اضافہ ہوگیا ہے۔