تاریخ سےکوئی سبق نہیں سیکھا گیا، روس کا ردعمل

441536_1490022_updates

‘تاریخ سےکوئی سبق نہیں سیکھا گیا، وہ دوبارہ جنگ چاہتے ہیں’، ڈرون واقعے پرجرمنی کے الزامات پر روس کا ردعمل

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جرمنی کے لیپزگ ائیرپورٹ پر  مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کے حوالے سے عائد الزامات کو  ایک حقیقی جنگ کا آغاز قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ  وہ بنیادی طور  پر  ہمارے خلاف جنگ کا اعلان کر  رہے ہیں، تاریخ  سے بالکل کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔

روسی خبر ایجنسی کو دیےگئے انٹرویو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ کسی نے یہ جاننے کے لیے تحقیقات کرنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ یہ ڈرون کس کا تھا، یہ بنیادی طور پر ایک حقیقی جنگ کا آغاز ہے۔

جرمنی کی جانب سے بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں روسی ہاؤس بند کرنےکے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ شروع ہونے سے پہلے  بھی جرمنوں نے اپنے سفارتی مشنز بندکر دیے تھے۔

 روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس قسم کا کھیل بالکل ناقابل قبول ہے، وہ دوبارہ جنگ چاہتے ہیں۔

انہوں نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے اس بیان کو بھی خطرناک رجحان قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت کا مقصد یورپ کی سب سے مضبوط فوج تشکیل دینا ہے۔

 سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ روسی قیادت اس کے مناسب نتائج اخذ کرے گی۔

خیال رہےکہ گزشتہ ماہ 4 ا گست کو  جرمنی کے لیپزگ  ائیرپورٹ کے سکیورٹی زون میں ایک ڈرون ملا تھا جس پر مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد نصب تھا۔ یہ ڈرون ایک یوکرینی کارگو طیارے کے قریب موجود تھا جس کے ذریعے یوکرین کے لیے فوجی سامان کی ترسیل بھی کی جاتی ہے۔

یکم ستمبرکو جرمنی نے باضابطہ طور پر روس کو  ڈرون حملے کی ناکام کوشش کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے روس کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا جن میں بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں واقع روسی ثقافتی مرکز کی بندش شامل ہیں۔جرمنی نے روس میں تعینات  عملے اور ان کے اہل خانہ کو بھی جلد از جلد روس چھوڑنے کا حکم دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے