ایران میں شادی کی تقریب پرامریکی ہتھیاروں سے براہ راست نشانہ
ایران میں شادی کی تقریب پر حملہ امریکی ہتھیاروں سے براہ راست کیا گيا: رائٹر نے بھی تصدیق کردی
برطانوی خبرایجنسی رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں اسلحہ ماہرین کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ ایران میں شادی کی تقریب امریکی ہتھیاروں سے براہ راست نشانہ بنی ہے۔
رائٹر کی رپورٹ کے مطابق اسلحہ ماہرین کی جانب سے ان تصاویر اور ویڈیوز کے تجزیے سے جن کی روئٹرز نے تصدیق کی ہے، یہ واضح ہوگیا ہے کہ منگل کے روز جنوبی ایران (کوہستک) میں شادی تقریب پر حملہ ایران کے دفاعی نظام کی غلطی یا امریکی ہتھیاروں کے اپنے ہدف سے انحراف کا نتیجہ نہیں تھا۔
رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہتھیاروں کے چار ماہرین نے تصدیق شدہ تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ جائے وقوعہ پر تباہی کا انداز امریکی حملوں سے براہ راست مطابقت رکھتا ہے اور یہ کہ امریکہ نے سیریک میں شادی کو براہ راست نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے نے ایک بار پھر ایران کے خلاف امریکہ کی جارحانہ اور بلاجواز جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ چھ ماہ قبل میناب کے ایک اسکول پر اسی طرح کے حملے میں 175 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ جنگ (پینٹاگون) نے ابھی تک میناب حملے سے متعلق اپنی تحقیقات کے نتائج سرکاری طور پر جاری نہیں کیے ہیں تاہم رائٹرز نے 5 مارچ کو بتایا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی فوج ہی اس حملے کی ذمہ دار تھی۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے اس سے قبل یہ اطلاع دی تھی کہ ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر کوہستک میں بمباری کے مقام سے ملنے والے ہتھیاروں کے ملبے کی ویڈیو اور تصاویر کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ٹکڑے امریکی فوج کے JSOW گائیڈڈ بم کے اجزاء سے مماثلت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج کے سابق بارودی ماہر ٹیرر بال کے جائزے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے بم کے پروں، بیرونی کیسنگ اور اسکرو سسٹم کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق یہ پرزے امریکی ساختہ سلائیڈنگ گائیڈڈ بم کے دکھائی دیتے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق، ” JSOW "ایک طویل فاصلے تک ہوا میں تیرنے والا گائیڈڈ ہتھیار ہے جو دشمن کے فضائی دفاعی نیٹ ورک سے باہر لڑاکا طیارے سے لانچ ہونے کے بعد اپنے پروں کو پھیلاتا ہے اور جی پی ایس اور دیگر نیویگیشن سسٹموں کا استعمال کرتے ہوئے دسیوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہدف کو اونچائی سے نشانہ بناتا ہے۔
ایرنا کے مطابق امریکہ نے یکم ستمبر کو صوبہ ہرمزگان کے بعض علاقوں بندر عباس، جاسک اور قشم پرحملے کیے تھے جبکہ سیریک قصبے میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا تھا جس میں درجنوں عام شہری شہید اور زخمی ہوگئے تھے۔