صدر ایران کا بیان
اگر امریکہ ایم او یو پر عمل کرے، تو ہم بھی اس پر عمل کریں گے: صدر ایران
صدر مملکت نے کہا ہے کہ ہماری قوم امریکہ اور صیہونی حکومت کے مقابلے میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔
آج بروز منگل 1 ستمبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر مسعود پزشکیان نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔
صدر ایران نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بڑی طاقتوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کے منافی عمل کرتے ہوئے دوسرے ملکوں پر حملے کریں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے ناجائز مطالبات ہم پر مسلط نہیں کرسکتا۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہماری قوم امریکہ اور صیہونی حکومت کے مقابلے میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑی اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کہ ایران اس ایم او یو پر قائم ہے جس پر انہوں نے دستخط کیے تھے اور اگر امریکہ مذکورہ ایم او یو پر واپس آجائے تو ایران بھی اس پر عمل کرنے کے تیار ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکہ نے ہمارے ملک پر بلاجواز اور غیر قانونی حملہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہمارے رہبر کو شہید کیا، ہمارے کمانڈروں کو شہید کیا، ہمارے سائنسدانوں کو شہید کیا اور ہمارے معصوم طلباء کو شہید کیا اور امریکہ کے اس اقدام کو کسی بھی ذہنی، عقلی یا بین الاقوامی ضابطے کے تحت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صدر ایران نے کہا کہ امریکہ انسانی حقوق اور قانون کی پاسداری کا دعوے کرتا ہے لیکن ایسے اقدامات کر رہا ہے جس کسی قانون اور ضابطے کے تحت کے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔