شنگھائی کا کردار بڑھانے کے لئے ایران کی 3 تجاویز
صدر ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے شنگھائي سربراہی اجلاس سے خطاب میں، تنظیم کی تقویت اور اس کا کردار بڑھانے کے لئے تین اہم تجاویز پیش کی ہیں
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے شنگھائی سربراہی اجلاس سے خطاب میں علاقے کے اقتصادی اور سلامتی کے مسائل کی وضاحت کی اور تنظیم کی تقویت کی ضرورت پر زور دیا۔
انھوں نے تنظیم کے اراکین میں اعتماد سازی، ملکوں کے اقتدار اعلی کے احترام، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور باہمی تعاون کو پائیدار سلامتی کے لئے ضروری قرار دیا۔
صدر ایران نے دہشت گردی، انتہا پسندی، تشدد، منشیات کی اسمگلنگ، منظم بین الاقوامی اورسائبرجرائم، جیوپولیٹیکل رقابت میں شدت، خود سرانہ پالیسیوں اور زور زبردستی نیز فوجی طاقت کے استعمال کو علاقائی ملکوں اور نئی اقتصادی طاقتوں کے لئے باعث تشویش بتایا۔
انھوں نے مغربی ایشیا کے حالات اور ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے، اس کو اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین پر حملہ قرار دیا۔
صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کے جارحانہ فوجی حملوں کے بعد، جنگ کی صورتحال اور تغیرات کی وضاحت کی اوراسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف پر زور دیا۔
انھوں نے سلامتی اور پیشرفت کو ایک دوسرے سے متصل قرار دیا اور کہا کہ انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
صدرپزشکیان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کو سیکورٹی اور معیشت پر ایک ساتھ توجہ دینی چاہئے۔
انھوں نے تنظیم کے اندر تجارت کے فروغ، بینکاری کی سہولتوں، حمل ونقل کی راہداریوں کی توسیع، لاجسٹک مراکز اور بندرگاہوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے نیز ٹرانزٹ کی سہولتوں میں توسیع اور استحکام کو رکن ملکوں کے باہمی تعاون میں توسیع کے لئے اہم ترین ضروری اقدامات میں شمار کیا۔
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اسی کے ساتھ بینکاری اور مالیاتی تعاون کی تقویت کے لئے، شنگھائی تعاون تنظیم کے بینک کی تاسیس، برآمدات وسرمایہ کاری کی انشورنس یونین اورشنگھائی انرجی کنسرشیم کی تشکیل پر مبنی تین اہم تجاویز بھی پیش کیں۔
صدر ایران نے اسی طرح سیکورٹی کے شعبے میں بھی، نئے خطرات کی شناخت اور علاقائی استحکام کی تقویت کے لئے، شنگھائی اسٹریٹیجک اسٹڈیزسینٹر قائم کئے جانے پر زور دیا۔
انھوں نے باہمی گفتگو اور تعاون کے موثر نظام کی اہمیت پر زور دیا اور شنگھائی تعاون تنظیم کی پیشرفت نیزاس کو زیادہ سے زیادہ کارآمد بنانے اور اتحادویک جہتی کی تقویت کے عمل میں فعال مشارکت کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی آمادگی کا اعلان کیا۔