ایران کا جوابی حملہ

iran-war1784263702-0-600x450

ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیو جاری

تہران نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ لارک جزیرے پر امریکی کارروائی کا جواب دیا جائے گا

ایرانی حکام نے ایسی ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر میزائلوں اور ڈرونز کو لانچ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کنگ حسین اور الازرق کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔

رائٹرز کے مطابق جاری کی گئی ویڈیو میں متعدد میزائلوں اور ڈرونز کے لانچ ہونے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں، تاہم فوری طور پر آزاد ذرائع سے یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والی کارروائی کب اور کہاں کی گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ امریکا کی جانب سے ایران کے جزیرے لارک پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیا گیا۔ تہران نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ لارک جزیرے پر امریکی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ خطے میں جاری کشیدگی میں ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ اردن میں بعض فوجی اڈوں پر امریکی فوجی اور فضائی اثاثے موجود رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان مقامات کو خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج کا مقصد بظاہر یہ ظاہر کرنا ہے کہ ایران نے امریکا کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔ تاہم حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان اور امریکی تنصیبات پر اس کے اثرات سے متعلق مزید آزادانہ معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

Iranian authorities released footage showing what is purported to be missiles and drones launching. They were being launched in what Tehran said was an operation targeting the King Hussein and Al-Azraq US air bases in Jordan https://t.co/e1guVdjnhW pic.twitter.com/fdEwqKIGPm — Reuters (@Reuters) August 31, 2026

دوسری جانب خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی مزید اہم ہوگئی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث اردن سمیت دیگر خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔

تازہ واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جبکہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے سے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے