امریکہ کو مشرق وسطی سے نکلنا ہو گا

IMG_20260820_085833_780.jpg

IMG_20260820_085833_780.jpg

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر تھونپی گئی جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش کو خطے میں امریکہ کی 35 سالہ شکست خوردہ فوجی موجودگی کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ 8 کھرب ڈالر کے اخراجات اور 9 لاکھ 40 ہزار انسانوں کی جان گنوا بیٹھنے نے بھی خطے میں عدم استحکام اور غزہ سے سوڈان تک متحدین کی جانب سے مجرمانہ اقدامات انجام دینے کے سوا کوئی نتیجہ ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس وقت امریکیوں کے لیے واحد راہ نجات یہ ہے کہ وہ مشرق وسطی سے ہمیشہ کے لیے باہر نکل جائیں۔ امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی ظالمانہ جنگ اس وقت ایک بھرپور بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ گذشتہ چند عشروں کے دوران امریکہ نے اپنی پالیسیوں اور اقدامات کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے مشرق وسطی میں اس کی فوجی موجودگی خطے کے اسٹریٹجک مفادات اور سیکورٹی کے لیے انتہائی ضروری ہے لیکن عمل کے میدان میں امریکہ کے اقدامات کا نتیجہ عدم استحکام اور تباہی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ مسئلہ ایران کے خلاف جنگ میں ہمیشہ سے بڑھ کر واضح اور عیاں ہوا ہے۔ ایسی جنگ جس نے ٹھیک وہی خطرات پیدا کیے جن سے روک تھام پر زور دیا جاتا تھا۔ 

جس چیز نے اس جارحیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی ہی بحران کی اصل جڑ ہے۔ امریکہ کی گذشتہ 35 سالہ پالیسیوں نے نہ صرف اس ملک کی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں اس کی جنگوں کو مزید شدت دی ہے۔ خطے میں امریکہ کے فوجی اڈے نہ صرف میزبان عرب ممالک کی سیکورٹی یقینی نہیں بنا سکے بلکہ ان ممالک پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا اصل سبب بن چکے ہیں۔ 1991ء میں خلیج جنگ سے لے کر عراق اور افغانستان پر امریکہ کے فوجی قبضے تک کویت، قطر، بحرین اور سعودی عرب جیسے ممالک میں امریکہ کے دسیوں ہزار فوجیوں کی موجودگی بھی بھاری اخراجات کا باعث بنی ہے۔ اسرائیل سے امریکہ کے تعلقات اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح گہرے سیکورٹی تعلقات اور مستقل فوجی اڈوں کی تعمیر بھیانک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ 1990ء کے عشرے میں فلسطینی رہنماوں اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے اوسلو معاہدے کے بتدریج زوال کے بعد امریکہ نے ہمیشہ سے صیہونی حکومتوں کی غیرمشروط حمایت کی ہے۔ ان حکومتوں نے مغربی کنارے پر مرحلہ وار غاصبانہ قبضے اور فلسطینیوں پر دھونس کے ذریعے امن کی امید ختم کر ڈالی ہے۔ 

گذشتہ چند سالوں کے دوران امریکہ کی اس غیرمشروط حمایت اور آشیرباد نے صیہونی حکمرانوں کو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی جرات عطا کی ہے۔ اس بات کی تصدیق حال ہی میں اقوام متحدہ کی غزہ میں نسل کشی کے بارے میں تحقیق کرنے والی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی کر دی ہے جبکہ خود اسرائیل کے بعض محققین اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی اس کا اعتراف کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے بعد غاصب صیہونی رژیم نے ایران کے خلاف غیرقانونی اور ظالمانہ جنگ کا آغاز کیا اور فروری 2026ء میں امریکہ بھی اس میں شامل ہو گیا۔ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی دونوں سے تعلق رکھنے والے امریکی صدور مملکت مشرق وسطی میں امریکہ کی فوجی موجودگی سے پہنچنے والے نقصانات کے ذمہ دار ہیں۔ یہ فوجی موجودگی امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق پر مبنی بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزیوں کا بھی باعث بنی ہے۔ اب اس عدم استحکام کے پیش نظر جو امریکہ کی فوجی موجودگی کے نتیجے میں مشرق وسطی خطے میں پیدا ہوا ہے یوں دکھائی دیتا ہے کہ واحد راہ حل خطے سے امریکہ کا فوجی انخلاء ہے۔ ایران سے جنگ بندی کے فوراً بعد امریکی فوجیوں کو مکمل طور پر خطے سے نکل جانا چاہیے تھا اور اسی طرح اسرائیل اور دیگر جارح حکومتوں جیسے متحدہ عرب امارات کو اسلحہ کی فروخت بھی بند کر دینی چاہیے تھی۔ 

امریکہ کو چاہیے کہ وہ فوجی اقدامات کی بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے۔ اسی طرح خلیج فارس کی سیکورٹی کے لیے علاقائی سطح کے راہ حل پر تکیہ کرنے کی ضرورت ہے اور خطے کے ممالک کو بیرونی طاقتوں پر فوجی اور سیکورٹی انحصار ختم کر دینا چاہیے۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف تھونپی گئی جنگ تھی جو آبنائے ہرمز کی بندش کا سبب بنی اور امریکہ اب تک اسے دوبارہ کھلوانے سے عاجز رہا ہے۔ اس صورتحال نے بحرین میں امریکی نیوی کی ففتھ فلیٹ کی تعیناتی پر بھی بڑے سوال اٹھا دیے ہیں۔ مشرق وسطی میں چند عشروں تک مسلسل جنگ کے بعد امریکی عوام بیرونی جنگوں سے تھک چکے ہیں۔ حال ہی میں سرچ لائٹ نامی تحقیقاتی ادارے نے ایک سروے انجام دیا ہے جس کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 62 فیصد امریکی عوام "ممکنہ حد تک جنگوں سے دور رہنے” پر زور دیتے ہیں۔ دوسری طرف صرف 33 فیصد امریکی عوام قومی مفادات کے حصول کے لیے فوجی طاقت بروئے کار لانے کے حق میں ہیں۔ ایک پوری امریکی نسل نے امن کا مشاہدہ نہیں کیا اور امریکی جوانوں کی اکثریت ایران کے خلاف جنگ کی مخالف ہے جن میں 18 سے 44 سالہ ریپبلکن پارٹی کے حامی بھی شامل ہیں۔ یہ وہ پہلی جنگ ہے جس کے آغاز سے ہی امریکی عوام اس کی مخالف تھی جبکہ عام طور پر جنگوں کے آغاز میں عوامی حمایت عروج پر ہوتی ہے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی الیکشن کمپین میں مشرق وسطی میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کے حامی امیدواروں پر شدید تنقید کر کے وائٹ ہاوس تک پہنچنے کی راہ ہموار کی تھی لیکن جیسے ہی وہ وائٹ ہاوس میں امریکی صدر کے طور پر داخل ہوا تو خود ہی نئی جنگ شروع کر ڈالی۔ ایسے وقت جب امریکی عوام کی اصل ترجیحات روزمرہ زندگی کے اخراجات اور انرجی محصولات کی قیمتوں پر مرکوز ہیں، پینٹاگون نے 2026ء کے لیے 1 کھرب ڈالر پر مبنی ریکارڈ فوجی بجٹ مقرر کیا ہے جبکہ حکومت نے 2027ء میں فوجی بجٹ میں مزید 50 فیصد اضافے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ مشرق وسطی میں امریکہ کی فوجی موجودگی فائدہ مند ہونے کی بجائے شدید نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ راستے میں تبدیلی آسان نہیں ہو گی لیکن ضروری ہے۔ چند عشروں پر محیط غلط جنگیں اور فوجی ٹکراو، بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور بھاری مالی نقصانات کا باعث بنی ہیں جبکہ ان سے امریکہ کی قومی سلامتی بھی مستحکم نہیں ہوئی اور انہوں نے ایشیا اور یورپ میں درپیش فوجی چیلنجز سے امریکہ کی توجہ بھی ہٹا دی ہے۔ اب مشرق وسطی سے امریکی فوج کے انخلاء کا وقت آن پہنچا ہے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے