سازباز کا دوٹوک انکار

IMG_20260806_170239.jpg

IMG_20260806_170239.jpg

 

تحریر: محمد علی

چہلم سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے لبنان کے شہر بعلبک میں ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس سے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں لبنان اور خطے سے متعلق بہت اہم نکات بیان کیے اور حزب اللہ لبنان کی آئندہ پالیسیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ شیخ نعیم قاسم نے ستمبر 2024ء میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے شروع کی گئی فوجی جارحیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کا اصل مقصد اسلامی مزاحمت کو مکمل طور پر ختم کر دینا ہے اور اس مقصد کے لیے دشمن نے ہمارے مرکزی رہنماوں اور فوجی کمانڈرز کی ٹارگٹ کلنگ کا راستہ اختیار کیا لیکن اسلامی مزاحمت نے ایمان کے زور پر دشمن کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے صیہونی دشمن کی جانب سے جارحانہ اقدامات روک دینے کی اصل وجہ ایران کا فیصلہ کن انداز میں امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ڈٹ جانا قرار دیتے ہوئے کہا: "ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت اسرائیل کو لگام دینے کا باعث بنی ہے۔” شیخ نعیم قاسم نے ایران کی واضح فتح اور امریکہ کی شکست پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی تزویراتی گہرائی پر تکیہ کرتے ہوئے تمام مساواتوں کو اسلامی مزاحمت کے حق میں تبدیل کر دیا ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی قیادت مستقبل میں مزید بڑی کامیابیوں کا زمینہ فراہم کر دے گی۔ انہوں نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے ثمر قرار دیا اور لبنانی حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے سامنے ڈٹ جائیں اور قومی حاکمیت کی حفاظت کرتے ہوئے فوج کو مضبوط بنائیں اور ملک کی تعمیر نو کریں۔ سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے صیہونی دشمن نے ہمارے سربراہ سید حسن نصراللہ کو شہید کیا اور اس کے ساتھ ساتھ سائبر حملوں اور پیجر دھماکوں کے ذریعے ہمارے مجاہدین اور کمانڈرز کی بڑی تعداد کو شہید کرنے کی کوشش بھی کی۔ ان تمام اقدامات کا مقصد حزب اللہ لبنان کو فوجی لحاظ سے کمزور کرنا تھا۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "اسلامی مزاحمت نہ صرف ختم نہیں ہوئی بلکہ ایمان اور جدوجہد پر بھروسہ کرتے ہوئے طاقت کا توازن تبدیل کر ڈالا۔” شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت روکنے میں اسلامی جمہوریہ ایران نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکہ سے مذاکرات میں پہلی شرط یہ رکھی کہ لبنان میں بھی جنگ بندی ہونی چاہیے اور وہاں سے اسرائیل فوج کو پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ امریکہ بھی یہ مطالبہ ماننے پر مجبور ہو گیا اور اس نے اسرائیل کو بھی فوجی جارحیت روک دینے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ اگرچہ امریکہ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات انجام دیتا رہا ہے لیکن اسرائیل کی دوبارہ ایران پر حملہ ور ہونے کی جرات نہیں ہوئی۔ یہ سب مزاحمتی طرز عمل اور سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم ایران سے جنگ کے ممکنہ نتائج سے شدید خوفزدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر بار بار ایران سے معاہدہ کرنے پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: "آج ہم بھی اس امریکی صیہونی جارحیت کا شکار ہیں جس نے غزہ، ہمیں، ایران، یمن اور پورے خطے کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ اس جارحیت کا اصل مقصد اسلامی مزاحمت کو ختم کر دینا اور خطے پر اپنا استعماری تسلط برقرار کرنا ہے جبکہ اسرائیل اس ظالم امریکی طاقت کی کٹھ پتلی کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔”

شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکمرانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: "لبنانی حکمران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی بجائے اسرائیل کی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ میں واضح اور دوٹوک انداز میں آپ سے کہتا ہوں کہ موجودہ طریقہ کار (امریکہ کی نظارت میں اسرائیل سے براہ راست مذاکرات) سے لبنان کو کوئی کامیابی حاصل ہونے والی نہیں ہےجبکہ اس سے امریکی اہداف آگے بڑھنے میں سہولت فراہم ہو گی۔” سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے کہا: "لبنانی عوام کی اکثریت مزاحمت، مقبوضہ علاقوں کو آزاد کروانے، قومی حاکمیت اور فوج اور اسلامی مزاحمت میں تعاون کی حامی ہے۔ ہم اس وحدت کے بل بوتے پر کامیاب ہوں گے۔ ہم ان افراد سے جنہوں نے اپنی تمام امیدیں امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ کر رکھی ہیں، مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے اتحاد میں شامل ہو جائیں کیونکہ یہی ہماری فتح اور کامیابی کا راستہ ہے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے