جنگ بندی کی خلاف ورزی ٹرمپ کی حماقت

bsr.jpg

bsr.jpg

تحریر: عبدالباری عطوان

 

جب اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے بار بار اس بات پر زور دیا تھا کہ انہیں امریکہ اور اس کے صدر پر کوئی بھروسہ نہیں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ معاہدے کی پابندی نہیں کریں گے اور وہ دھوکہ دینے اور غداری کرنے میں مشہور ہیں تو انہوں نے مکمل طور پر درست کہا تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی شروع کر دی جو اب تک جاری ہے اور اس کے نتیجے میں 14 افراد شہید اور 78 زخمی ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے گذشتہ چند دنوں میں چار بار اخلاقی اور قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی ہے۔ سب سے پہلے اس نے ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف بہت ہی گندی زبان استعمال کی اور اس کے بعد ایران کے شمال اور مشرق میں چند ریلوے اسٹیشنز پر ہوائی حملوں کا حکم دے کر عملی طور پر جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں اڑا دیں۔ اس کے بعد تیسرا موقع وہ تھا جب امریکہ نے بوشہر جوہری ری ایکٹر اور اس کے قریب ایک فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا جو بہت زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا تھا اور اس کے نتیجے میں جوہری آلودگی بھی پھیل سکتی تھی جبکہ دسیوں ہزار انسانوں کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے زیادہ خطرناک اقدام وہ تھا جس نے اخلاقی لحاظ سے اس کی انتہائی درجہ گراوٹ کا اظہار کر دیا۔ ٹرمپ نے ٹھیک ایسے وقت ایران پر حملے کیے جب تمام ایرانی شہری اپنے شہید سپریم لیڈر امام سید علی خامنہ ای کا سوگ منا رہے تھے اور مشہد مقدس میں ان کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔ یہ ٹرمپ کی سب سے بڑی غلطی اور انتہائی پست اور گھٹیا اقدام تھا جو اس کی سیاسی اور فوجی نادانی کے ساتھ ساتھ حد درجہ حماقت کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی کے ذریعے ایران میں کچھ جگہوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنائے گا اور قطر اور سعودی عرب کے بحری جہازوں کو ایران سے اجازت لیے بغیر طاقت کے زور پر آبنائے ہرمز سے گزارنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اگرچہ ٹرمپ نے ان بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے جنگی کشتیاں اور جنگی طیارے بھی استعمال کیے لیکن ایران کی جانب سے اس کا فوری، تباہ کن اور ذلیل کر دینے والا منہ توڑ جواب دیا گیا۔ ایرانی مسلح افواج نے فوری طور پر آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور یوں امریکہ کا یہ مشن بری طرح ناکامی کا شکار ہو گیا۔

 

امام خامنہ ای شہید کا تشیع جنازہ جمعرات کے روز مشہد مقدس میں انجام پایا اور امام رضا علیہ السلام کے حرم میں ان کی تدفین کر دی گئی ہے۔ اب ایران کی اعلی قیادت ٹرمپ کو سزا دینے اور مختلف پہلووں سے اس کی شکست کو مزید شدید اور عبرت ناک بنانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ اس بارے میں سب سے پہلا بیان ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم رضائی کی جانب سے سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امریکی دشمن کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا ہے: "بہت جلد ایران کی جانب سے شدید طمانچے کا انتظار کرو۔” ایران نے آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنا کر ٹرمپ کو شدید اور کاری ضرب لگائی ہے۔ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو بغیر ٹیکس کے کھلوانے کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتا ہے جبکہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہازرانی سے متعلق اپنے قوانین کی خلاف ورزی کا فوری جواب دے رہا ہے جس کے باعث حتی ایک بحری جہاز بھی ایران کی اجازت کے بغیر وہاں آمدورفت نہیں کر سکتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اگلا طمانچہ جو ٹرمپ اور اس کے اتحادی دریافت کریں گے اور شاید پہلے سے زیادہ شدید ثابت ہو وہ آبنائے باب المندب میں ہو گا۔

 

ایران کا اگلا اہم ہدف مقبوضہ فلسطین میں غاصب صیہونی رژیم کے مراکز ہوں گے۔ وہ 8 میزائل جو اردن میں امریکی اڈوں پر داغے گئے تھے محض ایک وارننگ تھی اور اب اس کے بعد اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی بارش ہونے والی ہے اور شاید ایران، عراق، یمن اور خاص طور پر حزب اللہ لبنان کی جانب سے ہزاروں میزائل اور ڈرون طیارے اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے پوری طرح آمادہ ہو چکے ہیں۔ اگلے چند روز بہت فیصلہ کن ثابت ہوں گے اور ایران اسرائیل پر ایک ایسا بڑا حملہ کرے گا جو گذشتہ حملوں سے کہیں زیادہ تباہ کن اور خوفناک ہو گا۔ امریکہ کے 25 بحری جنگی جہاز، دو طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے اور 50 سے زائد امریکی فوجی اڈے ان حملوں کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اب امریکیوں اور صیہونیوں کو سخت سزا دینے اور میدان جنگ میں انہیں سبق سکھانے کا وقت آ چکا ہے۔ ایسا سبق جو وہ ہر گز فراموش نہیں کر پائیں گے۔ ایران فوجی طاقت کے لحاظ سے بھی اور اسلحہ اور افرادی قوت کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ طاقتور ہے اور امریکہ کو ذلیل کرنا کا تجربہ بھی سب سے زیادہ رکھتا ہے لہذا آنے والا وقت ہر چیز کو واضح کر دے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے