مدینہ سے کربلا تک، 50 سالہ زوال کا تجزیہ

thumbnail

خواص کے کردار، دولت کے ارتکاز اور امتِ مسلمہ میں انحراف کے عمل پر ایک تحلیلی نظر

تحریر: سید میثم ہمدانی

1۔ خواص (اہم شخصیات) کون ہیں؟
کسی بھی معاشرے میں "خواص” سے مراد وہ اہم شخصیات اور بااثر گروہ ہیں، جن کے پاس فکری، سیاسی، مذہبی یا اقتصادی طاقت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ان کے لیے "مَلأ” (بااثر درباری) اور "مترفین” (خوشحال طبقہ) جیسی اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں۔ خواص وہ لوگ ہیں، جو معاشرے کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ عوام (عام لوگ) عموماً انہی نخبگان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں۔ اگر خواص بابصیرت اور حق پرست ہوں تو معاشرہ فلاح پاتا ہے اور اگر خواص دنیا پرست اور بزدل ہو جائیں تو معاشرہ گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ کربلا کے تناظر میں، خواص سے مراد وہ صحابہ، تابعین، قبائلی سردار اور قاضی تھے، جن کی ایک بات پر ہزاروں لوگ اپنی رائے بدل لیتے تھے۔

2۔ عبرتِ سامری؛ انحراف کی حیرت انگیز رفتار
انبیاء کی تاریخ بتاتی ہے کہ معنوی کامیابیاں کس قدر نازک ہوتی ہیں۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان کی محض 40 دن کی غیر موجودگی میں "سامری” (جو کہ خود ایک بااثر اور نخبہ شخصیت تھا) کے فریب میں آ کر بچھڑے کی پوجا شروع کر دی، اسی طرح اسلامی معاشرہ بھی نبیﷺ کے بعد ایسے بااثر افراد کا شکار ہوا، جنہوں نے خلافت کے راستے کو غدیر کی وضاحتوں سے موڑ دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سابقہ نیک اعمال، مستقل بصیرت کے بغیر حق کی بقاء کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

3۔ جہاد سے دولت کے ارتکاز تک؛ نخبگان کی بڑی لغزش
نبوی مشن کو سب سے بڑا دھچکا ان اہم شخصیات (Elites) کے طرزِ زندگی میں تبدیلی سے لگا، جو کبھی شعبِ ابی طالب میں فاقے کاٹتے تھے، لیکن فتوحات کے بعد امیر ترین افراد بن گئے۔ تاریخی شواہد کے مطابق:

  • طلحہ بن عبید اللہ: ان کی روزانہ کی آمدنی 1000 سونے کے دینار تھی۔ ان کی وفات کے بعد خزانے میں 3 کروڑ درہم نقد ملے۔
    زبیر بن عوام: وہ مدینہ میں 11 گھروں اور مختلف شہروں میں وسیع جائیدادوں کے مالک بن گئے۔ ان کی نقد دولت کا تخمینہ 5 کروڑ درہم لگایا گیا ہے۔
    عبدالرحمن بن عوف: ان کے سونے کو کلہاڑیوں سے توڑ کر تقسیم کیا گیا! وہ 1000 اونٹوں کے مالک تھے۔
    سعد بن ابی وقاص: انہوں نے مدینہ کے قریب ایک عظیم الشان محل تعمیر کیا، جو خواص اور عوام کے درمیان فاصلے کی علامت بن گیا۔

جب معاشرے کے "رول ماڈلز” (خواص) کی قدریں "ایثار” سے بدل کر "دولت جمع کرنے” میں بدل گئیں، تو وہ امام علی علیہ السلام کے عدل کو برداشت نہ کرسکے۔

4۔ خاموش اور لاتعلق خواص کا کردار
دنیا پرست خواص کے ساتھ ساتھ، "خاموش اہم شخصیات” نے بھی کربلا کا راستہ ہموار کیا۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی جائیدادوں اور سماجی مقام کے تحفظ کی خاطر حق کا ساتھ دینے کے بجائے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ ان کی خاموشی نے ظالم کو حوصلہ دیا کہ وہ رسول کے نواسے پر تلوار اٹھا سکے۔

5۔ ظلم کو قانونی جواز فراہم کرنا؛ قاضی شریح کا قلم
انحراف کی انتہاء تب ہوئی، جب "مذہبی نخبہ” (Religious Elite) نے ظلم کا راستہ صاف کیا۔ قاضی شریح 60 سالہ منصبِ قضا کے ساتھ اس زوال کی علامت ہے۔ انہوں نے حق کو چھپا کر قبائل کو منتشر کیا اور اپنے قلم سے امام حسینؑ کے قتل کو "قانونی جواز” فراہم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دکھایا کہ ایک بااثر شخصیت کا قلم تلوار سے زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔

6۔ کربلا، ایک تدریجی انحراف کا منطقی نتیجہ
واقعہ کربلا کوئی حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس عمل کا نتیجہ تھا جس میں:

  • باطل کے خواص نے اقتدار کی خاطر تمام حدیں توڑ دیں۔
    حق کے خواص (جیسے حضرت عباسؑ اور حبیب بن مظاہرؑ) نے قربانی دے کر بصیرت کی شمع روشن کی۔
    عام عوام جن کے رہنماء (خواص) سکوں اور محلوں میں غرق ہوچکے تھے، یزیدی لشکر کا حصہ بن گئے۔

خلاصہ
نبیﷺ کے بعد اہم شخصیات (خواص) کی معاشی اور فکری حالت میں آنے والی تبدیلی نے معاشرے کا رخ بدل دیا۔ جب رہبر "ہدایت” کے بجائے "مال اندوزی” کے پیچھے لگ گئے، تو عدل قربان ہوگیا۔ کربلا وہ قیمت تھی، جو اسلام نے یہ دکھانے کے لیے ادا کی کہ جس معاشرے کے خواص منحرف ہو کر دنیا کے غلام بن جائیں، وہ معاشرہ اپنے نبی کے بیٹے کا سر نیزے پر بلند کر دیتا ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ: جب معاشرے کے اہم افراد (خواص) بصیرت کھو دیتے ہیں، تو حق مقتل میں تنہاء رہ جاتا ہے۔ جو پیٹ حرام اور ناجائز دولت سے بھر جائیں، وہ حق کی آواز کے سامنے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے