نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کیلئے کیسے تیار کیا، اسرائیلی سفارتکار نے پول کھول دیا

7.jpg

7.jpg

سابق اسرائیلی سفارتکار اور نیویارک میں اسرائیل کے سابق قونصل جنرل ایلون پنکاس (Alon Pinkas) نے ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے، انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سفاک اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گہرے اثر و رسوخ سے پردہ اٹھایا ہے۔ دی گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے ایلون پنکاس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح سے صیہونی وزیراعظم نے امریکی صدر کو ایران پر حملہ کرنے کے لئے شیشے میں اتارا۔ ایلون پنکاس نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے کسی چالباز شخص کا کردار اپناتے ہوئے کہ جو وہ خود حقیقی طور پر ہے ہی، وینزویلا کو مثال کے طور پر استعمال کیا اور ٹرمپ سے کہا کہ "دیکھو! تم نے وینزویلا میں کیا کیا؟ یہ تو بہت آسان کام تھا.. یہ آسان تھا.. یہ خوبصورت تھا.. تم نے حکومت بدل دی!!”

اسرائیلی سفارتکار نے بتایا کہ اس کے بعد نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ایسے فیک انٹیلیجنس ڈیٹا کی بوچھاڑ کر دی کہ جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایران نے اپنی میزائل پیداوار اور میزائل لانچنگ کی صلاحیتوں کو بڑھا دیا ہے وہ بھی ایک ایسی صورتحال میں کہ جب اس کے پاس 450 کلو گرام انتہائی افزودہ یورینیم بھی موجود ہے۔ دی گارڈین نے سابق اسرائیلی سفارتکار سے نقل کرتے ہوئے لکھا کہ نیتن یاہو نے صیہونی جاسوس تنظیم موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کی مدد سے، ٹرمپ کے سامنے ایرانی حکومت کو "درخت سے گرنے کو تیار، حد سے زیادہ پکے ہوئے پھل” کے طور پر پیش کیا۔

ایلون پنکاس نے نیتن یاہو کی جانب سے امریکی صدر کے کانوں میں ڈالے گئے وسوسوں کو یوں بیان کیا ہے: "اس (نیتن یاہو) نے ٹرمپ سے کہا کہ ایران کی معیشت تباہ ہو چکی ہے.. اس کے لوگ بغاوت کے دہانے پر ہیں.. سپاہ پاسداران (IRGC) کنٹرول کھو چکی ہے.. ایران میں زندگی ناقابل برداشت ہو چکی ہے.. اور اب ہمارے لئے کارروائی کرنے کا اب بہترین موقع ہے!!” اسرائیلی سفارتکار نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا کہ ہم مل کر حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے کیا کچھ نہیں کر سکتے؟.. سوچیں کہ ہم مل کر صرف 3 یا 4 دنوں میں ہی یہ جنگ جیت سکتے ہیں!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے