اسرائیلی ملازمہ سارا نیتن یاہو سے ہرجانہ لینے میں کامیاب
عبری زبان کے معروف اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے انکشاف کیا ہے کہ غاصب و سفاک اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی رہائشگاہ کی ایک ملازمہ، نیتن یاہو کی بیوی سارہ نیتن یاہو کی جانب سے "زیتون اور ٹماٹر پھینکے جانے، بدسلوکی کئے جانے اور برطرفی” کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے ذریعے، سارہ نیتن یاہو سے دسیوں ہزار شکل (اسرائیلی کرنسی) پر مشتمل ہرجانہ وصول کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سفاک اسرائیلی وزیراعظم کی بیوی کے خلاف مذکورہ مقدمے میں کہا گیا تھا کہ سارہ نیتن یاہو نے ملازمہ کے لائے ہوئے ناشتے کو دیکھا اور غصے سے چلانے لگی کہ اس میں پیاز، ٹماٹر اور زیتون کی مقدار زیادہ ہے.. پھر اُس نے وزیراعظم (نیتن یاہو) کی موجودگی میں، ناشتے کی ٹرے میں موجود ٹماٹر اور زیتون کے ٹکڑے ملازمہ پر دے مارے۔ مقدمے کی فائل کے مطابق، سارہ نیتن یاہو نے چیختے چلاتے ہوئے ملازمہ پر الزام لگایا کہ وہ وزیر اعظم کو اور مجھے پسند نہیں کرتی اور ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے۔
