اسرائیل اوسلو معاہدے سے دستبرداری کے درپے
قابض صیہونی رژیم اسرائیل کے چینل 12 نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی آج اوسلو معاہدے کو منسوخ کرنے کے ایک قانونی بل پر غور کرے گی جبکہ یہ بل، اتمار بن گویر (Itamar Ben-Giver) کی قیادت میں کام کرنے والی انتہاء پسند یہودی جماعت اوٹزمہ یہودیت پارٹی کے رکن لیمور سون ہان-مالخ (Limor Son Har-Malech) کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس بل میں اوسلو معاہدے (1993 و 1995)، ہیبرون پروٹوکول، اور دریائے وائی کے معاہدے کو باقاعدہ طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس بارے اسرائیلی چینل 12 کا کہنا ہے کہ اس بل کے حامیوں کا دعوی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اوسلو معاہدے سے صرف مزاحمتی گروہوں کو ہی تقویت ملتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حتمی مقصد فلسطینی اتھارٹی کے لئے موجودہ قانونی حیثیت کا خاتمہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری کو بڑھانا ہے۔
واضح رہے کہ اوسلو معاہدہ، درحقیقت فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اسرائیل کے درمیان سال 1993 میں دستخط ہونے والا ایک سمجھوتہ تھا کہ جس میں کئی ایک دہائیوں کی جدوجہد کے بعد یاسر عرفات نے بالآخر "اسرائیل کو تسلیم” اور "مسلح مزاحمت” کی مذمت کر دی۔ جس کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی قائم ہو گئی تاہم تل ابیب اپنے کسی بھی وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہا درحالیکہ یاسر عرفات کبھی بھی فلسطینی دارالحکومت کے طور پر مشرقی بیت المقدس میں قدم نہ رکھ پائے اور زندگی بھر رام اللہ میں رہنے پر ہی مجبور رہے۔
15 جنوری 1997 کے روز قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی رژیم اور یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی کے درمیان دستخط ہونے والے ہیبرون معاہدے نے الخلیل شہر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا: علاقہ H1 کہ جو مکمل طور پر فلسطینیوں کے کنٹرول میں جبکہ علاقہ H2 (بشمول سٹی سینٹر اور قبۃ الرحمہ) تقریباً 800 یہودی آباد کاروں کی حفاظت کے لئے اسرائیلی سکیورٹی کے کنٹرول میں چلا گیا۔ یہ معاہدہ اوسلو II معاہدے پر عملدرآمد کے مراحل میں سے ایک تھا۔
اسی طرح وائی ریور معاہدہ بھی اکتوبر 1998 میں میری لینڈ، امریکہ میں، بنجمن نیتن یاہو اور یاسر عرفات کے درمیان بل کلنٹن کی نگرانی میں طے پایا کہ جس میں اسرائیل نے مغربی کنارے کا تقریباً 13 فیصد فلسطینیوں کو دینے کا وعدہ کیا تھا نیز فلسطینی اتھارٹی نے بھی "حماس” سمیت تمام "مزاحمتی گروہوں” کا سنجیدگی کے ساتھ "مقابلہ” کرنے کا وعدہ دیا۔
یاد رہے کہ قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو خود بھی اس معاہدے کا سخت مخالف ہے جیسا کہ سال 1996 میں صیہونی وزیر اعظم بننے کے بعد اُس نے اعلان کیا تھا کہ میں اوسلو معاہدے کو باضابطہ طور پر ختم نہیں کروں گا، تاہم جب تک فلسطینی مزاحمت مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی، میں اس پر عملدرآمد بھی نہ کروں گا!
