استنبول میں کشیدگی؛ ترکی میں سیاسی بحران ایک بار پھر بھڑک اٹھا
ترکی کے اینٹی رائیٹ پولیس نے آج پیر کو استنبول میں ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے ہیڈکوارٹر کے سامنے احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس فائر کرکے ملک میں سیاسی کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔
استنبول آج حالیہ برسوں کی شدید ترین سیاسی کشیدگی کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ ترکی کی اینٹی رائیٹ پولیس نے حکومت کی اہم ترین مخالف جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے مرکزی دفتر کے سامنے احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس فائر کی۔یہ احتجاج کرنے والے، جن میں جماعتی عہدے دار بھی شامل تھے، کسی ایسے شخص کے داخلے کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے جسے عدالت نے جماعت کی استنبول شاخ کا "ترجمان” مقرر کیا تھا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب استنبول ترکی کی سیاست میں ایک خاص مقیم رکھتا ہے؛ یہ شہر، جہاں کی میونسپل کارپوریشن اس وقت CHP کے پاس ہے، ہمیشہ سے حکمران جماعت کے خلاف ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ناقدین کی نظر میں اہم ترین مخالف جماعت کی شاخ پر زبردستی ترجمان مقرر کرنا اپوزیشن کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی ایک نئی چال ہے۔
آئینی قانون کے پروفیسر اور استنبول بار ایسوسی ایشن کے صدر کمال کاباوغلو نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "صدارتی محل ہر قیمت پر سیاسی طاقت کے منتقل ہونے کے راستے کو مسدود کرنے پر تل گیا ہے۔ اس کا واحد راستہ مزاحمت ہے۔”
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب حکومت پر منتخب اداروں میں مداخلت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، بڑے شہروں میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول میونسپل کارپوریشنز بار بار ایسے ہی فیصلوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں اور مقامی کونسلیں "مقرر کردہ ترجمانوں” کے ہاتھوں میں چلی گئی ہیں۔اب جب کہ یہ عمل خود CHP تک پہنچ گیا ہے، بہت سے لوگ اسے حکومت اور مخالفین کے درمیان تصادم میں شدت کی علامت سمجھ رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی فلسطینی کوچنگ اسٹاف کے خاندان کو شہید کرنے کی وحشیانہ کارروائی
فلسطین کی قومی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ نے اسرائیلی ریاست کے ہاتھوں اپنے قریبی اور دور کے 250 رشتہ داروں کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔
بصیر نیوز کے نامہ نگار کے مطابق، ایہاب ابو جزار، جو فلسطین کی قومی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں، نے اٹالین کھلاڑیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی ریاست کی طرف سے فلسطینی عوام کے قتل عام کے احتجاج میں اپنے میچ سے پہلے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کریں۔فلسطین کی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے انکشاف کیا کہ غزہ پر اسرائیلی جنگ میں ان کے 250 رشتہ دار شہید ہوئے ہیں۔
اٹلی کے ہیڈ کوچ، رابرٹو مانچینی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اسرائیلی ریاست کے خلاف کھیلنا، جب غیر مسلح شہری اور بچے مارے جا رہے ہیں، ‘شرمناک’ ہے۔
فلسطین کی قومی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ ان کا سب سے بڑا خوف اب موبائل فون ہے، کیونکہ ہر بار انہیں ڈر لگتا ہے کہ انہیں اسرائیلی ریاست کی طرف سے اپنے کسی رشتہ دار کے شہید ہونے کی خبر ملے گی۔ایہاب ابو جزار، جو غزہ کی پٹی کے شہر رفح کے رہنے والے ہیں، نے اسرائیلی ریاست کے جرائم کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 280 کھیلوں کے مقامات کو مسمار کر دیا ہے اور 774 کھلاڑیوں کو شہید کیا ہے۔
