کانگو: انسانی بحران میں شدت سے نقل مکانی میں اضافہ کا خدشہ، یو این ادارے
اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں باغیوں اور سرکاری فوج کی لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور کشیدگی جاری رہنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خدشہ ہے۔عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بتایا ہے کہ صوبہ شمالی کیوو کے دارالحکومت گوما میں خوراک، صاف پانی اور طبی سازوسامان کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ یہ علاقہ کئی روز سے لڑائی کا مرکز رہا ہے جہاں اب ہمسایہ ملک روانڈا کے حمایت یافتہ ایم 23 باغیوں کا قبضہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق، باغی اب صوبہ جنوبی کیوو کے دارالحکومت بوکاوو کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ کئی مسلح گروہ معدنیات سے مالا مال اس خطے پر قبضے کے لیے کئی دہائیوں سے برسرپیکار ہیں جن میں حالیہ عرصہ کے دوران شدت آ گئی ہے اور عدم تحفظ کے باعث بڑی تعداد میں لوگ دونوں صوبوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریہ کانگو میں انسانی بحران پر توجہ دیتے ہوئے امداد کی فراہمی کے لیے وسائل مہیا کرے۔ ادارے کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے متحارب فریقین سے کہا ہے کہ وہ لڑائی بند کر دیں تاکہ لوگوں کو مدد پہنچائی جا سکے۔
امدادی سامان کی قلت
امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ گوما کے گردونواح میں قائم بے گھر لوگوں کے کیمپ خالی ہونے لگے ہیں جہاں اب تک مقیم لوگ عدم تحفظ کے پیش نظر علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔متعدد مقامات پر ‘ڈبلیو ایف پی’ کے گوداموں کو لوٹ لیا گیا ہے جہاں باقی ماندہ سامان کو دوسرے علاقوں میں بھجوایا جا رہا ہے۔ ان حالات میں مقامی آبادی کے لیے امدادی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔’ڈبلیو ایف پی’ نے اپنے بیشتر عملے کو علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا ہے تاہم محدود تعداد میں اہلکار اپنی جگہ پر موجود رہیں گے تاکہ حالات میں بہتری آنے کے بعد امدای سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جا سکیں۔مشرقی کانگو کا ایک کیمپ جہاں اندرونی طور پر نقل مکانی پر مجبور ستر لاکھ افراد میں سے کچھ کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
ماورائے عدالت ہلاکتیں اور جنسی تشدد
جنگ زدہ مشرقی کانگو میں انسانی حقوق کا بحران بھی جنم لے رہا ہے۔ اندرون ملک بے گھر ہو جانے والے لوگوں کی کم از کم دو پناہ گاہوں میں بم دھماکوں کی اطلاعات ہیں جن میں متعدد لوگ ہلاک و زخمی ہوئے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے ترجمان جیریمی لارنس نے بتایا ہے کہ ادارے کو 26 اور 28 جنوری کے درمیان ایم 23 باغیوں کی جانب سے کم از کم 12 افراد کو ماورائے عدالت ہلاک کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔جنوبی کیوو میں سرکاری فوج اور وازالینڈو جنگجوؤں کی جانب سے جنسی تشدد کا ارتکاب بھی کیا جا رہا ہے جہاں کم از کم 52 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
سکولوں اور ہسپتالوں پر قبضہ
اس علاقے میں ایم 23 باغیوں نے سکولوں اور ہسپتالوں کو قبضے میں لے کر وہاں اپنے کیمپ قائم کر لیے ہیں۔ 27 جنوری کو گوما پر حملوں کے دوران شہر کی سب سے بڑی جیل توڑ دی گئی تھی جہاں مرد قیدیوں کی جانب سے کم از کم 165 خواتین قیدیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ترجمان کے مطابق، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایسے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑائی میں حالیہ اضافے سے جنسی تشدد کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔رواں سال امدادی اداروں نے جمہوریہ کانگو کے لیے 2.5 ارب ڈالر کے امدادی وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ بے گھری کے حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے 50 ملین ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔
