فاروق عبداللہ کے بیان پر تنازع: ’پاکستان سے بات چیت نہیں کی گئی تو کشمیر کا حشر غزہ جیسا ہوگا

49e016f0-a46c-11ee-b9a7-c91b9dfa91e5.jpg

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر ہم نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل نہیں کیا تو ہمیں اسی حشر کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا آج غزہ اور فلسطینیوں کو سامنا ہے۔فاروق عبداللہ نے انڈیا کے سابق وزیر اعظم اور بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ہر بار یہ ہی کہا ہے۔ واجپائی جی نے کہا تھا کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے۔ ہم پڑوسیوں کے ساتھ مل کر رہیں گے تو دونوں ترقی کریں گے۔ اگر ہم دشمنی نبھاتے رہے تو تیزی سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’مودی جی نے بھی حال ہی میں یہ کہا تھا کہ جنگ کوئی حل نہیں ہے، مسائل کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا، وہ بات چیت کہاں ہے؟ آج عمران خان کو چھوڑیں، اب نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم بننے والے ہیں۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بات چیت کریں گے، کیا وجہ ہے کہ ہم بات کرنے کو تیار نہیں.ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم نے اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل نہیں کیا تو میں معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں بھی غزہ اور فلسطینیوں کی طرح (صورت حال کا) سامنا کرنا پڑے گا، جن پر آج اسرائیل بمباری کر رہا ہے۔‘ان کا یہ بیان جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں پوچھ گچھ کے لیے فوجی کیمپ میں بلائے گئے تین افراد کی موت کے بعد آیا ہے۔فوج نے کل آٹھ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا جن میں سے پانچ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔یہ پوچھ گچھ گذشتہ ہفتے 21 دسمبر کو پونچھ ضلع میں فوج کی دو گاڑیوں پر گھات لگا کر حملے کے سلسلے میں کی جا رہی ہے جس میں چار فوجی ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے تھے۔فوج نے اس معاملے میں ایک بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہے

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے