اسرائیل کا حماس کے سینکڑوں افراد گرفتار کرنے کا دعویٰ، بائیڈن کا شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

israeel.jpg

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے حماس اور اسلامی جہاد کے 200 افراد گرفتار کیے ہیں جنھیں تفتیش کے لیے وہ اپنے علاقے میں لے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق کچھ مشتبہ افراد شہری آبادی میں چھپے ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی مرضی سے ہتھیار ڈال دیے۔
اسرائیل نے کہا کہ ’حماس کے خاتمے‘ کے لیے شروع کیے گئے فوجی آپریشن اور اس کے لیے غزہ میں مداخلت کے آغاز سے لے کر اب تک 700 فلسطینی عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں کارروائیوں میں اکثر خواتین اور بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے.
اسرائیل نے ماضی میں کہا تھا کہ وہ ایسے اقدامات کرتا ہے کہ شہری ہلاکتیں نہ ہوں۔ اس نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے خود کو گنجان آبادی میں چھپایا ہوا ہے۔
ادھر امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے غزہ میں جاری فوجی آپریشن پر بذریعہ فون تبادلہ خیال کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس دوران بائیڈن نے شہری آبادی کی حفاظت اور امدادی کارروائیوں کی معاونت پر زور دیا۔ ’شہریوں کو جنگ زدہ علاقوں سے محفوظ انداز میں نکلنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘
اسرائیلی پی ایم آفس کے مطابق نتن یاہو نے واضح کیا کہ ’اہداف کے حصول تک اسرائیل جنگ جاری رکھے گا۔‘
7 اکتوبر کو اسرائیل میں حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے جبکہ قریب 240 کو یرغمال بنایا گیا۔
حماس کے زیرِ انتظام فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 53 ہزار زخمی ہیں۔
سنیچر کی اطلاع کے مطابق جمعے کو 201 کی ہلاکتیں ہوئیں اور مختلف حملوں میں 368 زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے 56 سالہ امدادی کارکن عصام المغربی ایک فضائی حملے میں اپنی بیوی اور بچوں سمیت ہلاک ہوئے ہیں۔ اس حملے میں ان کے خاندان کے 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ میں جاری لڑائی کے دوران اس کے پانچ مزید فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ زمینی آپریشن میں اب تک 144 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی غزہ میں بمباری جاری ہے اور اس نے مختلف علاقوں میں شہریوں کو نقل مکانی کا حکم دے رکھا ہے۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے