اسرائیل کیخلاف ایرانی حملے کو ہم مشترکہ دشمن کیخلاف اپنے فائدے میں کیوں استعمال نہ کریں؟ اردنی تجزیہ نگار

ہمارا صیہونی دشمن حتی ہمارے اوپر یعنی اردن پر بھی حملے کر رہا ہے اور منصوبہ، نیتن یاہو کا منصوبہ یعنی گریٹر اسرائیل؛ نیل سے لے کر فرات تک ہے جس میں اردن بھی شامل ہے!

نیتن یاہو کا اس وقت کا فوری منصوبہ، ملک کو یہودی بنانا ہے، 1948ء کی اراضی اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی اردن میں جبری نقل مکانی کے ذریعے

وہ اور بن گویر جیسے دیگر افراد اردن کے بارے یہ کہتے ہیں کہ ہم (اردن) عارضی حکومت ہیں اور یہ کہ فلسطینیوں کا وطن یہاں ہے

صحیح، یہ حملہ اور (اسرائیل کو ایران کا) یہ جواب (وعده صادق)، یہ میرا عقیدہ ہے کہ ہم اسے اپنے مفاد میں کیوں استعمال نہیں کرتے؟ ہم کیوں اسے استعمال نہیں کرتے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے؟

اور دوسرا نقطہ یہ کہ ہمیں سمجھ لینا چاہیئے کہ ترکی و ایران کا ہمارے بارے منصوبہ ہے

دوسرا نقطہ، دوسرے الفاظ میں یہ کہ مان لیں کہ ترکی و ایران، ہر ایک کا خطے کے بارے ایک منصوبہ ہے!

ترکی و ایران میں فرق یہ ہے کہ ترکی نیٹو کا رکن ہے ترکی کے اسرائیل کے ساتھ براہ راست تعلقات استوار ہیں (ترکی و اسرائیل) کے درمیان تجارت کا حجم 6 بلین ڈالر سے زیادہ ہے!

صحیح! ترکی و ایران۔۔ اگر وہ (ایران) چاہتا۔۔ اگر وہ چاہتا۔۔ اگر ایران چاہتا ہوتا۔۔ يعنى اگر وہ اصول، اقدار و دین کا پابند نہ ہوتا تو کیا وہ اس صیہونی دشمن کے ساتھ اتفاق نہیں کر سکتا تھا؟

تب یہ امریکہ۔۔ خوشی سے ناچنے لگ جاتا۔۔! اور پھر تو وہ انہیں (ایرانیوں کو) ایٹم بموں کی اجازت بھی دے دیتا نہ صرف ایک ایٹم بم (بلکہ وہ جتنے چاہتے ایٹم بم بناتے)

وہ کر سکتا ہے۔۔ لیکن ایران۔۔ چاہے ہم اس سے اتفاق کریں یا اختلاف، لیکن میرا ایمان ہے، میرا ایمان ہے۔۔ ایران کو اپنی سرزمین سے باہر قبضہ کرنے کا کوئی طمع ولالچ ہی نہیں!!

1 views

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے