◷

ایران کی شرائط امریکا تک پہنچ گئیں

30 ستمبر 2026

ایران کی شرائط امریکا تک پہنچ گئیں، ٹرمپ ’دلدل‘ میں پھنس گئے، محسن رضائی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا کو پیش کی گئی شرائط واشنگٹن تک پہنچ چکی ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ مذاکرات کی طرف جانا ہے یا جنگ جاری رکھنی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق محسن رضائی نے تہران میں آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیٰ یف سے ملاقات کے دوران کہا کہ ٹرمپ ایسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کرسکتے ہیں اور نہ جنگ کا فیصلہ کر پا رہے ہیں۔

محسن رضائی نے کہا کہ ایران کی شرائط امریکا تک پہنچا دی گئی ہیں لیکن واشنگٹن فیصلہ کرنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے فوجی محاذ پر فضائی حملوں اور دباؤ کا راستہ اختیار کیا ہے جبکہ ایران نے جنگ کے دوران اپنے دفاع کے لیے بھرپور کارروائی کی۔

ایرانی سکیورٹی چیف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان قطر کی ثالثی کے ذریعے بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران نے سات نکاتی تجویز امریکا تک قطری ثالث کے ذریعے پہنچائی ہے اور تہران اب واشنگٹن کے باضابطہ جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ ہرمز سے متعلق شرائط پر بھی تہران نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔

محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران خطے میں موجود رہے گا جبکہ ان کے بقول امریکا کا خطے میں مستقبل نہیں ہے۔

آذربائیجان کے نائب وزیراعظم نے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات کو دوستانہ اور برادرانہ قرار دیا اور ان قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ آذربائیجان نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

Iran: Trump caught in ‘quagmire,’ unable to decide

https://t.co/KXxjKWbke9

— Press TV 🔻 (@PressTV) September 29, 2026

یہ بیان ایک ایسے مرحلے میں سامنے آیا ہے جب قطر امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں ثالثی کر رہا ہے۔ دوسری جانب حالیہ رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ابھی نہیں ہوئی اور دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے