سلامتی کونسل کا اجلاس اختیارات کے ناجائز استعمال کی کھلی مثال
سلامتی کونسل کے اجلاس پر ایران کا ردعمل: یہ اجلاس سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کی مثال ہے
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مشن نے ایران کے بارے میں سلامتی کونسل کے آج کے اجلاس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کے طریقہ کار اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی کھلی مثال قرار دیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے مشن نے جمعرات کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ سلامتی کونسل کا آج کا اجلاس بعض رکن ممالک کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی غرض سے عالمی ادارے کے طریقہ کار اور اختیارات سے ناجائز استفادے کے سوا کچھ نہیں تھا۔
بیان میں کہا گيا ہے کہ ایران کا موقف پوری طرح واضح ہے کہ یورپی ٹرائیکا کی جانب سے نام نہاد اسنیپ بیک مکینزم کبھی فعال نہیں ہوا ہی نہیں کیونکہ اس کے رکن ممالک نے نہ تو ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا اور نہ ہی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی تعمیل کی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ قرارداد 2231 کی میعاد 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہو گئی، اس تاریخ سے ایٹمی مسئلے سے متعلق تمام دفعات، اقدامات اور پابندیاں مستقل طور پر ختم ہو گئی ہیں۔ اس کے مطابق، 1737 کمیٹی کی مبینہ سرگرمیوں کی بھی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے طریقہ کار اور اجلاسوں کو عالمی امن و سلامتی خدمت کے استعمال استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ سیاسی محرکات کے حامل دعووں یا غیر قانونی اقدامات کو چھپانے کے لیے اس کا ناجائز استمعال کیا جائے۔
ارنا کے مطابق، اگرچہ جمعرات 10 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ضابطے کی ووٹنگ کے تحت (بغیر ویٹو) منعقد ہوا لیکن کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس کے حق میں 11، روس اور چین نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
اجلاس میں کوئی قرارداد منظور نہیں کی گئی۔ روس اور چین کی جانب سے اصولی مخالفت کی وجہ سے ایران کے خلاف پابندیوں کی کمیٹی 1737 کو فعال نہیں کیا جا سکا۔
اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ پڑھی گئی اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ ایران کا کوئی نمائندہ موجود تھا۔