یورپ براہ راست یوکرین جنگ میں شامل ہوگا: روس
کیف کی ناکامی کے نتیجے میں یورپ براہ راست یوکرین جنگ میں شامل ہوگا: روس
روس کے بین الاقوامی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے وسطی ایشیا کے ممالک کی سیکیورٹی ایجنسیوں اور انٹیلیجنس سروسز کے سربراہان کی کانفرنس کے 22ویں اجلاس میں کہا کہ پورے یوریشیا میں وسیع پیمانے پر تنازعہ کا خطرہ ہے اور یہ تشویش سنجیدگی سے لینی چاہیے۔
سرگئی ناریشکن نے مزید کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق، یورپی سربراہان کشیدگی میں اضافے اور خطرہ بڑھانے کی حکمت عملی پر یقین رکھتے ہیں جو گزشتہ صدی میں مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے تیار کی تھی۔
ناریشکن نے نشاندہی کی کہ یورپی ممالک، جو کبھی عالمی ترقی میں صف اول میں تھے، 2008 سے بڑھتی ہوئی معاشی کساد بازاری، صنعت کاری میں کمی، توانائی کے بحران اور تارکین وطن کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان مشکلات میں امریکہ پر تقریباً مکمل فوجی-سیاسی انحصار بھی شامل ہو گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یورپی اشرافیہ اپنی کوششوں کو ان داخلی مسائل کے حل کی طرف مرکوز کرنے کے بجائے، یوریشیا کی خود مختار طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ کرنے کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔
ناریشکن نے وسطی ایشیا کے ممالک کے مابین تعاون کو یوریشیا میں استحکام کو یقینی بنانے کا ایک بنیادی عنصر قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ متعدد یورپی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی پیش گوئیوں کے مطابق، یوکرین کی فوج کی متحرک کرنے کی صلاحیت عملی طور پر ایک سال کے اندر ختم ہو جائے گی لہذا یورپ کا متبادل منصوبہ اس جنگ میں براہ راست پھاند پڑنا ہے۔