وسطی ایشیا کے معدنی ذخائر پر امریکہ کی للچاتی نظریں
تحریر: احسان موحدیان
امریکہ کی جانب سے وسطی ایشیا میں موجود کم یاب معدنی ذخائر میں دلچسپی اور ٹرمپ حکومت کے اقدامات نے وسطی ایشیائی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
قازقستان اور ازبکستان میں امریکہ کی مشکوک سرگرمیاں
قازقستان کا شمار ایسے وسطی ایشیائی ممالک میں ہوتا ہے جہاں سے امریکہ وسیع پیمانے پر معدنی ذخائر حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ نومبر 2025ء میں اسکائی لائن بلڈرز نامی کمپنی کے نمائندوں نے قازقستان نیشنل مائنز کمپنی کے ساتھ معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیٹوں ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ سے وابستہ کمپنیاں پہلے سے اسکائی لائن بلڈرز کے شیئرز خرید چکی تھیں۔ یہ خبر موسم بہار کے آغاز میں دنیا کے اقتصادی ذرائع ابلاغ میں وائرل ہوئی تھی۔ بظاہر یہ ایک عام اقتصادی خبر دکھائی دیتی ہے لیکن ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے بقول لکھا کہ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ سے وابستہ کمپنیاں ایک اہم ترین معدنی ہولڈنگ سے اتحاد قائم کرنے کا معاہدہ کر چکے ہیں۔ یہ ایسی ہولڈنگ ہے جس نے قازقستان میں موجود ٹنگسٹن کے ذخائر پر کام کرنے کے لیے امریکہ سے 1.6 ارب ڈالر کا بجٹ وصول کیا ہے۔ ٹرمپ خاندان نے پہلے اسکائی لائن بلڈرز کے کچھ شیئرز خریدے اور اس کے بعد اپنی شراکت داری بڑھاتے گئے اور اب وہ قازقستان کی کمپنی Kaz Resources کے 20 فیصد شیئرز کے مالک بن چکے ہیں۔ اس کمپنی کے نمائندوں نے نومبر 2025ء میں قازقستان کی نیشنل مائنز کمپنی سے معاہدہ انجام پانے کا اعلان کیا اور 30 اپریل 2026ء کے دن دونوں نے اپنی کمپنیوں کو ملا کر ایک نئی کمپنی بنانے اور امریکہ کے نیس ڈیک اسٹاک ایکسچینج میں اس نئی کمپنی کے شیئرز بیچنے پر بھی اتفاق رائے کر لیا ہے۔
محض کاروباری امور سے بڑھ کر رونما ہونے والی تبدیلیاں
اگرچہ یہ خبریں بظاہر چند کمپنیوں کے درمیان کاروباری معاملات اور سرمایہ کاری سے متعلق ہیں لیکن زیادہ وسیع سطح پر، مغرب خاص طور پر امریکہ کی جیواکنامک اسٹریٹجی میں اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اگر ہم گذشتہ چند عشروں کے دوران، وسطی ایشیائی ممالک میں پائے جانے والے تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضے کے لیے بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بازی کا جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ اس وقت عالمی سطح پر تیزی سے ڈیجیٹل اقتصاد، جدید دفاعی مصنوعات اور پاکیزہ انرجی کی جانب گامزن ہونے کے پیش نظر کمیاب معدنیات جیوپولیٹیکل مقابلہ بازی کا نیا میدان بن چکی ہیں۔ جو چیز اس مسئلے کی اہمیت دوچندان کر دیتی ہے وہ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک مقابلہ بازی ہے۔ گذشتہ چند برس کے دوران چین نہ صرف کمیاب معدنیات کے میدان میں بلکہ ٹنگسٹن، اینٹیموان، لیتھیم، مولیبڈیم، گیلیم اور جرمینیم سے متعلق جدید ٹکنالوجیز کے میدان میں بھی اصل کھلاڑی کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ دوسری طرف امریکہ چین پر کمیاب معدنیات کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے بعد اب ان معدنیا کے نئے ذخائر کے درپے ہے تاکہ چین سے تجارت بند ہو جانے کا ازالہ کر سکے۔ ایسے حالات میں وسطی ایشیا عظیم معدنی ذخائر سے برخوردار ہونے کے ناطے امریکہ کی اقتصادی سیاست اور اقتصادی سیکورٹی کا اہم ترین میدان بن چکا ہے۔
خام معدنیات کی فروخت سے بچنے کے لیے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے راہ حل
سابق سوویت یونین کے زوال کے بعد وسطی ایشیا مغربی ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کے ایک اہم مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ امریکہ اور یورپی سرمایہ کاروں نے دو عشروں تک مسلسل کوشش کے بعد قازقستان، ازبکستان اور کرغزستان میں معدنیات نکالنے کے کاروبار پر قبضہ کر لیا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اہم معدنیات تک رسائی کے لیے عالمی سطح پر جاری مقابلہ بازی روز بروز زیادہ شدید ہوتی جا رہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کی زیادہ توجہ ان معدنیات کو نکالنے پر مرکوز ہے جبکہ وسطی ایشیائی ممالک ان معدنیات کو ملک کے اندر ہی زیادہ قیمتی مصنوعات میں تبدیل کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو خام معدنیات تیزی سے ان ممالک سے باہر نکل جائیں گی اور مغربی ممالک ان معدنیات کو قیمتی مصنوعات میں تبدیل کر کے بے تحاشہ فائدہ اٹھائیں گے۔ وسطی ایشیا کے مقامی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اصل خطرہ ان معدنیات کے ذخائر کو ایسی حالت میں غیر ملکی کمپنیوں کے سپرد کرنا ہے جبکہ ملک کے اندر انہیں قیمتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صنعت پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ان معدنیات کو نکال کر بیرون ملک لے جانے میں دلچسپی کا مطلب یہ ہے کہ وہ مقامی سطح پر ان سے متعلقہ ٹیکنالوجیز کو ترقی نہیں دینا چاہتے جس کے نتیجے میں ان سے حاصل ہونے والا فائدہ زیادہ تر مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کو پہنچے گا۔
