ایران کی بڑھتی ڈیٹرنس طاقت
تحریر: حسین حائری نژاد
گذشتہ چند ماہ کے دوران مشرق وسطی خطے میں رونما ہونے والے حالات نے بین الاقوامی سیاست کے ساتھ ساتھ خطے کی سیاست بھی ہلا کر رکھ دی ہے۔ خاص طور پر گذشتہ چند ہفتے مشرق وسطی خطے میں ایک بہت ہی غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس کی مثال اس خطے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے بیروت پر فوجی چڑھائی کا الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے لبنانی شہریوں سے شہر خالی کر دینے کا مطالبہ کر دیا۔ دوسری طرف سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے اسرائیل کو دھمکی دے دی کہ بیروت پر فوجی حملے کی صورت میں اسرائیل کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا جائے گا۔ جیسے ہی ایران کا یہ الٹی میٹم سامنے آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون کال کی اور اسے شدید ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ آڑے ہاتھوں لیا۔ امریکی اخبار ایگزیاس کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سختی سے بیروت پر حملے سے منع کر دیا اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر پیغام بھی شائع کر دیا کہ اسرائیل ہر گز بیروت پر حملہ نہیں کرے گا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی دھمکی پر پسپائی اختیار کر لینا کوئی عام بات نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب مشرق وسطی میں امریکہ اور اسرائیل نہیں بلکہ ایران ایک فیصلہ کن طاقت بن چکا ہے اور خطے کے حالات اس کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی اس ڈیٹرنس طاقت کا راز معلوم کرنے کے لیے گذشتہ دو جنگوں یعنی 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ غاصب صیہونی رژیم نے بیروت پر حملے کا الٹی میٹم جاری کر کے ایک بار پھر فوجی دھمکی اور نفسیاتی جنگ کا ہتھکنڈہ استعمال کرنے کی کوشش کی تاکہ اس طرح لبنان پر اپنا ارادہ مسلط کر سکے۔ اس کی یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی جب وہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود گذشتہ چند ہفتوں سے مسلسل جنوبی لبنان میں فوجی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان اسرائیلی اقدامات نے خطے بھر میں تشویش کی لہر دوڑا رکھی تھی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کو واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر لبنان کے دارالحکومت پر کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت انجام پائی تو اس کے اثرات بہت وسیع حد تک ظاہر ہوں گے اور نہ صرف مقبوضہ فلسطین بلکہ پورے خطے میں اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دوسری طرف ایران کے سیاسی حکام نے بھی کھل کر اس بات پر زور دیا کہ لبنان کی سلامتی خطے کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے اور اگر لبنان کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے تو پورے خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکی صیہونی محاذ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ اور اس میں ایران کی شاندار فتح کے بعد خطے کی سطح پر ایران کی ڈیٹرنس طاقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس جنگ میں ایران نے اپنی میزائل اور ڈرون طاقت کے ساتھ ساتھ فوجی صلاحیتوں کا بھی کھل کر اظہار کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا واحد انجام شکست فاش کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اسی طرح ایران نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ علاقائی سطح پر دشمن کا مقابلہ کرنے اور اس پر کاری ضربیں لگانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کی حالیہ جنگ محض دو فوجوں کے درمیان فوجی ٹکراو نہیں تھا بلکہ اسرائیل کی سیکورٹی ڈاکٹرائن کے تابوت میں آخری کیل تھا کیونکہ غاصب صیہونی رژیم کی فوجی ڈاکٹرائن "مکمل فوجی برتری” پر استوار تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ تل ابیب نے گذشتہ کئی دہائیوں سے یہ تصور برقرار رکھنے کی کوشش کی کہ وہ خطے کی طاقتور ترین فوج کا مالک ہے اور جو بھی اس سے براہ راست ٹکر لے گا وہ شکست فاش کھائے گا۔
لیکن حالیہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے مسلسل چالیس دن تک میزائل اور ڈرون حملوں نے ثابت کر دیا کہ غاصب صیہونی رژیم کا فضائی دفاع بہت ہی کمزور ہے اور اس کی تزویراتی گہرائی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیہ کاران کی نظر میں حالیہ جنگ کے بعد ڈیٹرنس کا مفہوم بنیادی طور پر تبدیل ہو گیا ہے اور وہ مساوات جو پہلے یکطرفہ طور پر اسرائیل کے حق میں تھی اب دو طرفہ بلکہ مشرق وسطی خطے کی سطح پر چند طرفہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں 12 روزہ جنگ نے جو کردار ادا کیا تھا اسی کردار کو 40 روزہ جنگ نے پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے۔ یمن سے لے کر غزہ، لبنان اور عراق تک اسلامی مزاحمتی محاذ نے مل کر غاصب صیہونی رژیم پر جو شدید ضربیں لگائیں ان کے نتیجے میں اسرائیل کی طاقت کا بھرم کھل گیا اور اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسلامی مزاحمتی بلاک کی تمام رکن طاقتیں اسلامی جمہوریہ ایران کی سربراہی میں ایک متحدہ محاذ کی صورت میں سرگرم عمل ہیں اور خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات ڈال رہی ہیں۔ دوسری طرف امریکہ بھی جنگ کے مزید وسعت اختیار کر جانے سے خوفزدہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطی خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔
