امریکا کا ایران پر ایک بار پھر حملہ / تہران کا جوابی وار (مکمل اسٹوری)
iran vs usa
باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی برقرار ہونے کے، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے سرکاری صفحے پر لکھا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف حملے کیے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (سپاہ پاسداران) کی بحریہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس نے جارحیت کے جواب میں خطے میں امریکی دہشت گرد فوج کے چند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی برقرار ہونے کے باوجود، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے سرکاری صفحے پر لکھا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف حملے کیے ہیں۔
اس امریکی ادارے نے آبنائے ہرمز میں کل ایک تجارتی جہاز پر ہونے والے حملے کو ایران سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی یہ کارروائی تہران کے اسی حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔
اس سے چند گھنٹے پہلے ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے رپورٹ کیا تھا کہ آج شام ملک کے جنوب میں واقع ضلع سیریک کے طاہریہ بحری اسکلے پر ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ضلع سیریک بندرعباس سے تقریباً 170 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔
اس دھماکے کی خبر اس وقت سامنے آئی جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی طرف چار ڈرون فائر کیے ہیں۔
انہوں نے لکھا:
“اسلامی جمہوریہ ایران نے کم از کم چار ‘یک طرفہ حملہ آور ڈرون’ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی طرف بھیجے۔ ان میں سے ایک ڈرون ایک بہت مہنگے تجارتی جہاز کے اوپری ڈیک سے زور سے ٹکرا گیا۔”
انہوں نے مزید دعویٰ کیا:
“کچھ نقصان ہوا لیکن جہاز اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔ ہم نے باقی تین ڈرون مار گرائے۔ واضح ہے کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی ایک احمقانہ خلاف ورزی ہے۔”
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ خود اس مفاہمتی معاہدے کی پہلی شق کی خلاف ورزی کا الزام جھیل رہا ہے۔ اس شق کے مطابق امریکہ کو تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، جنگ بندی برقرار رکھنی تھی، جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کے حملے اب بھی جاری ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز خبری ذرائع نے عمان کے ساحل کے قریب ایک سمندری واقعے کی اطلاع دی اور بتایا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا ماحولیاتی نقصان نہیں ہوا۔
ان ذرائع کے مطابق عمان کی ایک بندرگاہ کے جنوب مشرق میں ایک مال بردار جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائیل چیز نے نشانہ بنایا۔
اسی دوران برطانیہ کی میرٹائم ٹریڈ آپریشنز تنظیم نے بھی اعلان کیا کہ عمان کی ایک بندرگاہ سے تقریباً 7.5 سمندری میل جنوب مشرق میں ایک واقعہ پیش آنے کی رپورٹ ملی ہے۔ جہاز کے کپتان نے بتایا کہ اس واقعے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی ماحولیاتی نقصان۔
دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (سپاہ پاسداران) کی بحریہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس نے جارحیت کے جواب میں خطے میں امریکی دہشت گرد فوج کے چند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ہفتہ کی علی الصبح سپاہ نیوز نے اس بیان کا متن جاری کیا، جو اس طرح ہے:
بسم اللہ القاصم الجبارین
فَمَنِ اعْتَدَیٰ عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَیٰ عَلَیْکُمْ ۚ
(پس جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر ویسی ہی زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر کی ہے۔)
بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد چند گھنٹے قبل عہد شکن امریکی حکومت نے بھی ہمیشہ کی طرح اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی اور مختلف بہانوں سے آبنائے ہرمز میں ایک خلاف ورزی کرنے والے جہاز کی غیر مجاز راستے سے آمد و رفت کو جواز بنا کر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساحلوں پر فضائی حملہ کیا۔
بیان کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اس جارحیت کے جواب میں خطے میں امریکی دہشت گرد فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے کنٹرول کے انتظامات اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہیں، تاہم امریکہ مختلف عوامل کو بھڑکا کر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کا مناسب جواب دے دیا گیا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔