بالآخر ایران امریکہ سے مذاکرات کر ہی کیوں رہا ہے، امریکی ڈپٹی وزیر خزانہ

2.png

2.png

امریکی اقتصادی تھیوریسٹ، سابق نائب وزیر خزانہ اور وال اسٹریٹ جورنل کے سابق ایسوسی ایٹ ایڈیٹر پروفیسر پال کریگ رابرٹس (Prof. Paul Craig Roerbts) نے واشنگٹن کے ساتھ تہران کے مذاکرات کو "ایک غلطی” قرار دیا ہے۔ اپنے آنلائن انٹرویو میں پروفیسر پال کریگ رابرٹس کا کہنا تھا کہ آپ (ایران) ایک تسلط پسند طاقت کے ساتھ کس طرح سے بات چیت کرتے ہیں؟.. خاص طور پر "گریٹر اسرائیل” کے صہیونی نقطہ نظر کے حامی کے ساتھ؟.. یہ طاقت آپ کے وجود کے حق کو بھی تسلیم نہیں کرتی!

امریکی ماہر اقتصادیات و معروف تجزیہ کار نے اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ (ایران) اس وقت ایک ایسی پوزیشن میں ہیں کہ جہاں آپ؛ اُن ممالک کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں کہ جو آپ کی تباہی پر تُلے ہوئے ہیں!!.. اگر آپ کے وجود کے حق کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تو آپ بالآخر کس چیز کے بارے مذاکرات کرتے ہیں؟ امریکی ماہر اقتصادیات نے مزید کہا کہ البتہ ایرانیوں کے پاس بہت اچھی حکمت عملی ہے اور انہوں نے اسی حکمت عملی کے ذریعے گیند کو مد مقابل کے کورٹ میں ڈال رکھا ہے!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے