میدان جنگ میں حزب اللہ کی موجودگی اسرائیل کیلئے اسٹریٹجک شکست ہے، سابق اسرائیلی وزیراعظم

1-.jpg

1-.jpg

قابض اسرائیلی رژیم کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے لبنانی مزاحمتی محاذ کے خلاف جنگ کے آغاز کے ڈھائی سال بعد بھی حزب اللہ لبنان کی پوری قوت کے ساتھ مسلسل موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس صورتحال کو اسرائیلی کابینہ کی "تزویراتی ناکامی” قرار دیا ہے۔ ایہود باراک نے قابض صیہونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ، نیتن یاہو نے ٹرمپ کو بھی موجودہ صورتحال تک پہنچا دیا ہے کیونکہ وہ (نیتن یاہو) وہم کا پرچار کرتا ہے، بالکل ویسے ہی کہ جیسے وہ اسرائیلیوں کو بھی وہم "بیچتا” ہے۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے نہ صرف خود بھی اپنے توہمات پر "یقین” کرنا شروع کر دیا ہے بلکہ وہ توہمات کے اس عظیم خلاء میں، یہ یقین کر بیٹھا ہے کہ یہ سب کچھ "حقیقت” ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے