امریکہ اسرائیل میں مستقل فوجی دستے تعینات کریگا، اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی میڈیا نے اپنے خفیہ اعلی سکیورٹی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل میں اپنی افواج کی مستقل بنیادوں پر تعیناتی پر غور کر رہا ہے۔ اس بارے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ سال 2017 میں، بئرسبع کے قریب اسرائیل ڈیفنس فورسز کے ایئر ڈیفنس اسکول میں ایک فوجی اڈہ تو قائم کر چکا ہے اور اگرچہ اسرائیل، نہ صرف امریکہ کا سب سے بڑا نان نیٹو اتحادی ہے اور امریکہ اس قابض رژیم کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن مقبوضہ فلسطین میں امریکہ کی بڑی فوجی موجودگی کبھی نہیں رہی۔
قابل ذکر ہے کہ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال 2026 میں ایک ایسے فوجی بجٹ پر دستخط کئے تھے کہ جس میں قابض صیہونی رژیم کے لئے اربوں ڈالر کی سکیورٹی امداد بھی مختص کی گئی تھی جبکہ جنگ بندی کی مدت کے دوران، ایران کے ساتھ جنگ رُک جانے کے بعد، واشنگٹن نے تل ابیب کو اپنے فوجی ساز و سامان کی فروخت میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
