کوئٹہ، ضلعی انتظامیہ افسران کو جسٹس آف پیس مقرر کرنیکا فیصلہ عدالت میں چیلنج
بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین رحمت اللہ بڑیچ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی راجب خان بلیدی ایڈووکیٹ اور ممبر ایگزیکٹو کمیٹی امان اللہ خان کاکڑ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دفعہ 22 اے اور 22 بی کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے اختیارات ایگزیکٹو افسران کو منتقل کرنا عدلیہ کی خودمختاری پر کاری ضرب ہے۔ بار کونسل نے جسٹس آف پیس کے نوٹیفکیشن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی راجب خان بلیدی نے دائر کی گئی درخواست میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ انتظامیہ کو عدالتی اختیارات دینے کے مترادف ہے، جس سے پولیس دو متوازی اتھارٹیز، یعنی عدلیہ اور انتظامیہ، کے احکامات کی پابند ہو جائے گی، جو آئینی تضاد اور انتظامی انتشار کا سبب بنے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس سے قبل بھی عدلیہ سے اختیارات لے کر انتظامیہ کو دینے کی کوشش کی گئی تھی، جسے بلوچستان ہائی کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے میں کالعدم قرار دیا تھا۔ بار کونسل کے مطابق حالیہ نوٹیفکیشن بھی اسی زمرے میں آتا ہے اور یہ اقدام اختیارات کی علیحدگی کے بنیادی آئینی اصول کے منافی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ جسٹس آف پیس کا مقصد شہریوں کو پولیس کی زیادتی یا کوتاہی کے خلاف غیر جانبدار عدالتی فورم فراہم کرنا تھا، مگر انتظامی افسران چونکہ حکومت کے نمائندے ہیں، اس لیے ان سے غیر جانبدار عدالتی کردار کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ریاستی انصاف کو انتظامی خواہشات کے تابع کرنے کے مترادف ہے۔ بلوچستان بار کونسل نے اس فیصلے کے خلاف صوبہ بھر میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا اور آئینی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
