ہم امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات کے آگے ہرگز سرنڈر نہیں کریں گے

IMG_20251213_225818_373.jpg

IMG_20251213_225818_373.jpg

ہم امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات کے آگے ہرگز سرنڈر نہیں کریں گے

لبنان کی حزب‌اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے آج ہفتے کے روز یومِ خواتین کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے لبنان کے داخلی مسائل، مزاحمت کے کردار اور علاقائی چیلنجز کے حوالے سے تحریک کے مؤقف کی وضاحت کی:

🔹 ریاست کی جانب سے مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی کوئی بھی کوشش دراصل امریکہ–اسرائیل کی خواہش ہے، جس کا مطلب لبنان کی طاقت کو ختم کرنا ہوگا۔

🔹 حکومت پر لازم ہے کہ لبنان کی حاکمیت اور آزادی کے استحکام کے لیے کوشش کرے، اور مزاحمت نے بھی جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد اور حکومت کی مدد کے سلسلے میں اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔

🔹 اسرائیل جنگ بندی کے بعد جو کچھ بھی کر رہا ہے، ہم اسے جارحیت کا تسلسل سمجھتے ہیں، اور یہ نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پورے لبنان کے لیے خطرناک ہے۔

🔹 مزاحمت کی کامیابیوں کو آزاد کرائے گئے علاقوں سے جانچا جاتا ہے، لیکن دشمن کے مقابلے میں بازدارندگی—جو حزب‌اللہ نے قائم کی ہے—ایک خاص اور منفرد کامیابی ہے۔

🔹 جارحیت کے مقابلے میں بازدارندگی حکومت اور فوج کی ذمہ داری ہے، جبکہ مزاحمت کا فریضہ حمایت فراہم کرنا اور آزادی کی کوششوں میں مدد دینا ہے۔

🔹 مزاحمت لبنان اور اس کی مزاحمتی طاقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک دفاعی حکمتِ عملی سے متفق ہے، لیکن کسی بھی صورت میں امریکہ اور اسرائیل کے سامنے سرنڈر کے لیے تیار نہیں ہے۔

🔹 ملک کی ترقی کا اصل مسئلہ اسلحے کی اجارہ داری نہیں ہے۔ جس انداز میں اسلحے کی پابندی کی بات کی جا رہی ہے، وہ درحقیقت ایک امریکی–اسرائیلی مطالبہ ہے۔ اس منطق کے تحت اسلحے کو محدود کرنا لبنان کی طاقت کو سزائے موت دینے اور اسے تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

🔹 اگر سرنڈر کیا گیا تو لبنان باقی نہیں رہے گا، اور شام کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ سرنڈر لبنان کے زوال پر منتج ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے