ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
جب تک مسئلہ فلسطین کو منصفانہ طریقے سے حل نہیں کیا جاتا اور صہیونی ریاست کے جرائم بند نہیں ہوتے، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام قائم نہیں ہو سکتا
🔹ایران کے نمائندے عراقچی نے برازیل کے دارالحکومت میں منعقدہ بریکس اجلاس کے ورکنگ سیشن میں کہا: ایران فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل یہ سمجھتا ہے کہ ایک ریفرنڈم کرایا جائے جس میں فلسطین کے تمام اصل باشندے — یہودی، عیسائی اور مسلمان — شرکت کریں۔
🔹ایران کے وزیر خارجہ نے جنوبی افریقہ کی تاریخی مثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کا نسلی امتیاز پر مبنی نظام (اپارتھائیڈ) ریفرنڈم اور جمہوریت کے ذریعے ختم ہوا، نہ کہ سفید فام اور سیاہ فام افراد کی علیحدہ تقسیم سے۔
🔹عراقچی نے گزشتہ 8 دہائیوں کے دوران صہیونی قبضے کی مخالفت کی تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اسی بنیاد پر ایران نے بریکس سربراہی اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں "دو ریاستی حل” کے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس سے متعلق ایک نوٹ بھی باقاعدہ طور پر جمع کرایا ہے۔
