کسی بھی پیمانے پر دیکھا جائے، ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ​​ہارچکے ہیں: واشنگٹن پوسٹ

173113343

واشنگٹن پوسٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ ​​میں شکست خوردہ شخص قرار دیا ہے اور ایک ماہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ امریکہ اپنے بنیادی اسٹریٹیجک مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے۔

امریکی اخبار نے نشاندہی کی کہ مارچ کے اوائل میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ ​​”جیت” چکا ہے لیکن ابھی اس نے “کام مکمل نہیں کیا”۔ مہینوں گزرنے  بعد، جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سفارت کاری تعطل کا شکار ہے، وہ “کام” اب بھی ادھورا ہے اور اس کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ “خوش قسمتی سے ہم جنگ کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں” اور “ایران معاہدے کا خواہاں ہے”؛ تاہم زمینی صورتحال کے پیشِ نظر یہ امید بے بنیاد معلوم ہوتی ہے، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ تہران کسی معاہدے کے لیے بے تاب ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ​​واشنگٹن کے لیے ایک اسٹریٹجک تباہی ثابت ہوئی ہے۔ اس تنازعے نے امریکی فوج کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔

اخبار کے مطابق اندازہ ہے کہ اس جنگ پر اب تک امریکہ کو تقریباً 38.1 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے ہیں اور اس نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ تنازعہ امریکی ووٹرز میں بھی انتہائی غیر مقبول ہے، اور کانگریس میں ریپبلکن ارکان کی بڑی تعداد اس کے خاتمے کے حق میں ووٹ دے رہی ہے۔ ایک ریپبلکن قانون ساز نے تو ایران کے ساتھ جنگ ​​کے معاملے پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ (Pete Hegseth) کے مواخذے کی تحریک بھی پیش کر دی ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ بھاری اخراجات کے باوجود، امریکہ ایران کے حوالے سے بہت کم کامیابیاں حاصل کر سکا ہے، اور بعض پہلوؤں سے تو صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ کسی بھی پیمانے پر دیکھا جائے—خطے میں طاقت کے اظہار کی ایران کی صلاحیت سے لے کر اس کی عسکری قوت، حکومت کی مضبوطی اور جوہری پروگرام کی حیثیت تک—ٹرمپ اس تنازعے میں ناکام رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *