سینئر رکن انصار اللہ:یمنی مسلح افواج کے اہداف فوجی اڈے اور تیل کی تنصیبات ہیں۔
انصار اللہ تحریک کے ایک سینئر رکن نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی مسلح افواج کے اہداف فوجی اڈے اور تیل کی تنصیبات ہیں۔
انصار اللہ کی سعودی عرب کو سخت تنبیہ: تقدس کے دعوے ہمارے حملوں کو نہیں روک سکیں گے۔
یمن کی تحریک ‘انصار اللہ’ کے سیاسی بیورو کے رکن، حزام الاسد نے سعودی عرب کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمنی مسلح افواج سعودی سرزمین کے اندر موجود فوجی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور اہم مقامات پر حملے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ یمنی افواج نے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا ہے؛ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کی جانب سے اپنی تنصیبات پر "خانہ کعبہ کی تصاویر” کا استعمال یمنی فوجی کارروائیوں کو نہیں روک سکے گا، اور ایسے ہتھکنڈوں کو عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں کا حتمی مقصد "فوجی جارحیت کا خاتمہ” اور یمنی عوام پر عائد "مکمل ناکہ بندی کا خاتمہ” ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ درحقیقت یمنی عوام ہی مقدس مقامات کے حقیقی محافظ ہیں۔
اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے، یمن کی تحریک ‘انصار اللہ’ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے ریاض سے وابستہ میڈیا کے حالیہ پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے کہا: "یہ الزام کہ یمن نے مکہ پر حملہ کیا، ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جسے سعودی حکومت نے اپنی پے در پے عسکری ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے گھڑا ہے۔”
تحریکِ مزاحمت کے نظریے میں مکہ، مدینہ اور بیت المقدس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے البخیتی نے زور دے کر کہا: "یمن کے عوام اور حکومت خود کو اسلامی مقدسات کے دفاع میں ہراول دستے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ بات غیر منطقی ہے کہ جو تحریک مسلمانوں کے پہلے قبلے کو صیہونیوں کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے میدانِ جنگ میں لڑ رہی ہو، وہی تحریک بیک وقت دوسرے قبلے کے تقدس کی پامالی بھی کرے۔”