صدر پزشکیان: امریکا خطے اور دنیا میں اپنے استعماری عزائم پر عمل نہیں کر سکتا
صدر ایران نے برکس کے رکن ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں ایرانی وفد کی کامیاب شرکت کے بارے میں ایک گفتگو میں کہا : ہمیں امید ہے کہ علاقے میں امریکی غنڈہ گردی برکس کے رکن ممالک کی پالیسیوں سے ناکام ہو جائے گی اور امریکا خطے اور دنیا میں اپنے مذموم عزائم کو پورا نہيں کر پائے گا۔
مسعود پزشکیان نے اتوارکی شام، دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے اختتام پر، برکس کے ارکان اور اس گروپ میں شامل ہونے کے خواہشمند ممالک کے اس اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے : برکس کے بنیادی ارکان 11 ممالک ہیں اور 10 دیگر ممالک نے بھی اس گروپ میں شامل ہونے کی درخواست دی ہے، جن کے ساتھ مشترکہ نشستوں میں بہت اچھی گفتگو ہوئی۔
صدر مسعود پزشکیان نے یہ بتاتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد کی تمام کوششیں اپنے ملک کے موقف کی وضاحت اور اس اجلاس کے لیے مقررہ اہداف کے حصول پر مرکوز تھیں، مزید کہا: اس بار کے اجلاس میں جن محوروں پر توجہ دی گئی، ان میں تحمل و استقامت، جدت، تعاون اور پائیداری شامل تھی اور ہر اجلاس میں موجود ہر ملک نے ان اہداف کی تکمیل کے طریقے کے بارے میں اپنے اپنے خیالات پیش کیے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ اجلاس میں شریک ممالک نے زور دیا ہے کہ کثیر قطبی دنیا کی تشکیل کے لیے کوشش کی جانی چاہیے کیونکہ وہ تمام ممالک جو اجلاس اور گفتگو میں موجود تھے، دنیا میں ہونے جاری زور زبردستی اور جارحانہ اقدامات سے ناخوش تھے اور اس قسم کے رویہ کی مذمت کر رہے تھے۔
صدر نے ایران اور ہندوستان کے درمیان تعاون میں توسیع کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی حکام کی جانب سے ایران کے ساتھ انسان دوستانہ روابط کی توسیع میں تعاون کے پیش نظر، یہ طے پایا کہ ڈاکٹر عراقچی اور ہندوستان کے وزیر خارجہ ، تفصیلات پر گفتگو کریں گے اور طے شدہ معاہدوں کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری تعاون جاری رکھیں گے۔
صدر پزشکیان نے ہندوستانی حکام کی گرمجوش سے لبریز میزبانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید کہا: ہندوستان کے وزیر اعظم، صدر اور حکام کا اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد کے ساتھ رویہ بہت مناسب اور دوستانہ تھا اور میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان تمام عہدیداروں کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے گفتگو اور تعاون کے لیے ایسا اچھا ماحول فراہم کیا۔
صدر نے کہا کہ اجلاس کے شرکاء نے یک طرفہ پابندیوں اور جبری اقدامات کی مخالفت کی اور برکس کے تمام ارکان نے پابندیوں اور دوسرے ممالک پر دباؤ کی مخالفت کی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے عالمی تجارتی تنظیم میں شامل ہونے کی حمایت بھی ان دیگر موضوعات میں سے تھی جن پر اس اجلاس میں توجہ دی گئی۔
صدر ایران نے برکس ارکان کی طرف سے لبنان کی خودمختاری کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ صیہونی حکومت کی جارحیت کی مذمت، جوہری ہتھیاروں سے پاک خطے کی تشکیل پر زور اور دوہرے معیاروں کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی ضرورت ان دیگر موضوعات میں سے تھی جن پر اجلاس کے بیان میں توجہ دی گئی۔
صدر نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے مواقع پر کچھ لوگوں کو ملزم ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ اصل ملزمان کو بری کر دیا جاتا ہے اور یہ ان موضوعات میں سے تھا جن پر اجلاس میں موجود بہت سے ممالک کے سربراہان نے اپنی تقاریر میں تنقید کی۔
صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ طاقت کا حامل ہونا قوانین اور انسانی اصولوں کو نظر انداز کرنے کا لائسنس نہیں ہو سکتا، واضح کیا: اجلاس میں شریک کسی بھی ملک کے لیے یہ قابل قبول نہیں تھا کہ ایک ملک، محض زور اور طاقت کے حامل ہونے کی وجہ سے، تمام انسانی حقوق کے قوانین اور انسانی اصولوں کو پامال کرے اور تکنیکی برتری اور اقتصادی تسلط کی بنیاد پر دیگر ممالک پر پابندیاں عائد کرے۔
صدر پزشکیان نے بتایا کہ ممالک کا اس رویہ پر احتجاج روز بروز پھیل رہا ہے اوراسلامی جمہوریہ ایران نے یہ موقف واضح طور پر پیش کیا اور دیگر ممالک بھی اسی طرح کا نظریہ رکھتے تھے اگرچہ ممکن ہے کہ کچھ تحفظات اور اپنی معیشت کو نقصان پہنچنے کے خدشے کی وجہ سے وہ تحریری دستاویزات میں یہ موقف اتنے واضح انداز میں بیان نہ پائے ہوں۔