کشتی الٹنے کے بعد 3 دن تک سمندر میں رہنے والا بچہ کرشماتی طور پر زندہ بچ گیا
ایک 15 سالہ بچے کو کھلے سمندر میں الٹ جانے والی کشتی کے اوپر سے بچا لیا گیا۔
امریکی ریاست الاسکا سے تعلق رکھنے والا ڈیرک پارکر 3 دن تک کھلے سمندر میں اس طرح رہا تھا۔
یہ بچہ 4 ستمبر کو سینٹ لارنس آئی لینڈ کے قریب اپنے کزن اور بھائی کے ساتھ مچھلی کا شکار کر رہا تھا جب ان کی کشتی الٹ گئی۔
کشتی الٹ جانے کے باعث ڈیرک پارکر کے بھائی اور کزن ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
اسے بچانے والے کوسٹ گارڈ کے بحری جہاز کے کپتان ایڈم وائٹ نے بتایا کہ بچے نے ہمیں بتایا کہ اس کا بھائی اب بھی کشتی کے نیچے موجود ہے جبکہ اس کا کزن ہمارے پہنچنے سے قبل کشتی کے اوپر سے پھسل کر سمندر میں ڈوب گیا تھا۔
کوسٹ گارڈ نے اسے 7 ستمبر کو صبح ساڑھے 10 بجے دیکھا تھا۔
اس سے قبل 6 ستمبر کی شب الاسک اسٹیٹ ٹروپرز کی جانب سے کوسٹ گارڈ کو ان بچوں کی گمشدگی سے آگاہ کیا گیا تھا۔
جب انہوں نے ڈیرک پارکر کو دریافت کیا تو وہ الٹ جانے والی کشتی کے اوپر بیٹھا ہوا تھا۔
ایڈم وائٹ کے مطابق ‘یہ بہت حیران کن تھا اور وہاں بہت زیادہ سردی تھی’۔
ڈیرک پارکر کو جب بچایا گیا تو اسے ہائپوتھرمیا کی علامات کا سامنا تھا اور جہاز کے عملے نے کمبلوں سے اسے ڈھانپا۔
خاندان کے ایک رکن نے بتایا کہ جب ڈیرک پارکر کے 35 سالہ بھائی اور 34 سالہ کزن ڈوب گئے تھے تو وہ کشتی کے اوپر چڑھ گیا تھا۔
وہ بغیر خوراک یا پانی کے سمندر میں 62 گھنٹوں تک رہا اور پورا وقت کشتی کے اوپر بیٹھا رہا۔