سیریک ایک کہانی نہیں: بقائی
بقائی: سیریک ایک کہانی نہیں؛ امریکی پروپیگینڈا بھی عام شہریوں پر واشنگٹن کے حملوں کا اعتراف کرتا ہے
ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے تازہ ایکس پوسٹ میں سینٹکام کے اس جھوٹے دعوے پر کہ امریکہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معاصر تاریخ تک امریکی جنگی جرائم کا اعتراف کرتی ہے۔
خبر رساں ایجنسی نے اپنے اس ایکس پوسٹ میں لکھا کہ:” سینٹکام کے ترجمان، ٹم ہاؤکنز نے سیریک میں جنگی جرم کا انکار کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ امریکہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا لیکن بظاہر وہ امریکی فوج کے باضابطہ دستاویزات کو بھول بیٹھے ہیں: سن 2002 میں کارکارک واقعہ، سن 2004 میں مکردیب، سن 2008 میں دہ بالا اور وج بغتو؛ ان تمام واقعات میں امریکہ نے افغانستان اور عراق میں بڑی تعداد میں عام فوجیوں کا قتل عام کیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔”
اسماعیل بقائی نے امریکی ڈرامے "Homeland” کا بھی حوالہ دیا جس میں پاکستان میں امریکی ڈرون حملے کی منظرکشی کی گئی جس میں 40 سے زیادہ عام شہریوں کا قتل عام ہوا تھا۔
ترجمان وزارت خارجہ نے اپنے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ حقیقت اتنی ہولناک ہے کہ حتی امریکی پروپیگینڈے میں بھی ہاؤکنز کے آج کے دعوے کو پیش نہیں کیا گیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے لکھا کہ "سیریک” افسانہ نہیں ہے۔ عام شہری ایک حقیقت ہیں۔ [جنگی جرائم کے] بھینٹ چڑھنے والے بھی حقیقت رکھتے ہیں۔