امریکی عوام ایران سے جنگ کے مخالف

1-9.jpg

1-9.jpg

 

 

 

"امریکی عوام ایران سے جنگ ​​نہیں چاہتے”۔ یہ نیو جرسی سے ڈیموکریٹک سینیٹر اینڈی کم کا پیغام ہے جو ایران کے خلاف امریکی صدر کی طرف سے تناؤ اور فوجی دھمکیوں میں اضافہ کے بعد سامنے آیا تھا۔ اینڈی کم نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پیغام میں لکھا: "امریکی عوام ایران کے خلاف جنگ ​​شروع نہیں کرنا چاہتے۔” ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے اس امریکی سینیٹر کا یہ بیان درحقیقت نیویارک ٹائمز کی اس نئی رپورٹ کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں امریکی صدر کے قریبی مشیروں کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنیوا میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور سے قبل ایران پر ابتدائی ٹارگٹڈ حملہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر اینڈی کم نے اپنے ایک پیغام میں لکھا: "گزشتہ ہفتے میں نے نیو جرسی کے اپنے حلقے میں ایک عوامی جلسے کے دوران لوگوں سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ہم ایران پر حملہ کریں یا نہیں؟ کسی نے ہاں میں جواب نہیں دیا! امریکی عوام ایران کے خلاف جنگ ​​شروع نہیں کرنا چاہتے۔”

اینڈی کم وہ واحد امریکی سینیٹر نہیں ہیں جنہوں نے کانگریس میں اعلان کیا ہے کہ امریکی عوام ایران سے جنگ کے مخالف ہیں بلکہ نیویارک کے ریپبلکن کے رکن مائیک لاولر اور نیو جرسی کے ڈیموکریٹ رکن جاش گیٹ ہائمر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ہر ایسی قرارداد کی مخالفت کریں گے جس میں ایران پر فوجی حملے کے لیے کانگریس کی منظوری کی درخواست کی جائے گی۔ دریں اثنا، پچھلے کچھ دنوں میں کینٹکی سے ریپبلکن رکن کانگریس، تھامس میسی اور کیلی فورنیا کے ڈیموکریٹ رکن، رو کھنہ نے ایوان نمائندگان میں دونوں پارٹیوں کی ایک مشترکہ قرارداد پیش کی ہے جس میں کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کو ممنوع قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قرارداد میں ٹرمپ کو حکم دیا جائے گا کہ "وہ اسلامی جمہوریہ ایران یا اس کی حکومت یا فوج کے کسی بھی حصے کے خلاف دشمنی پر مبنی اقدامات میں امریکہ کی مسلح افواج کا استعمال کرنا بند کر دے، سوائے اس کے کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے لیے کانگریس کی طرف سے خصوصی طور پر اجازت دی گئی ہو۔” دونوں نمائندے، جو جنگ کی روک تھام کے لیے باہمی تعاون کرنے میں مصروف ہیں، H. Con. Res. 38 بل کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں جو جون 2025ء میں 12 روزہ جنگ کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ یہ بل، 1973ء کی جنگی اختیارات کی قرارداد کے سیکشن 5(c) کی بنیاد پر امریکی صدر کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ مسلح افواج کو ایران سے ہر قسم کی ایسی دشمنی سے دور رکھے جس کی کانگریس نے واضح طور پر اجازت نہ دے رکھی ہو۔

اس قرارداد کو اب تک 76 دیگر ڈیموکریٹ اراکین کانگریس کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ کھنہ نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پیغام میں لکھا: "ٹرمپ حکومت کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کا 90 فیصد امکان ہے۔ وہ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتا۔ میسی اور میں ایک بل پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ (ایران سے جنگ شروع کر کے) امریکی شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈالنے سے پہلے جنگ کے بارے میں بحث کریں اور سب کی رائے لی جا سکے۔ میں اگلے ہفتے اس بل پر ووٹنگ کرواوں گا۔” میسی نے کھنہ کی پوسٹ کو ری ٹویٹ کیا اور اس کے نیچے لکھا: "کانگریس کو آئین کے مطابق جنگ پر ووٹ دینا چاہیے۔ ہم اس ووٹ کو ایوان نمائندگان میں جلد از جلد لازمی قرار دیں گے۔ میں امریکہ کے حق میں ووٹ دوں گا، یعنی مشرق وسطی میں نئی جنگ کے خلاف۔” امریکی کانگریس میں دیگر ایسے اراکین اور سینیٹرز بھی ہیں جو شدت سے ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی کے مخالف ہیں۔ انہی میں سے ایک، نیویارک سے رکن کانگریس، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز ہیں جنہوں نے ہفتے کے روز سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا: "ایران کے ساتھ جنگ ​​نہیں ہونی چاہیے۔” دوسری طرف، اقتصادی دباؤ اور مہنگائی نے بھی ان دنوں امریکی عوام پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رکھا ہے۔ یہ دباو اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ میساچوسٹس سے رکن کانگریس، جم میک گورن نے ٹرمپ کی جانب سے اپنی پوری توجہ ایران کے خلاف عسکریت پسندی پر مرکوز کرنے اور اندرون ملک حالات سے بے توجہی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: "امریکی عوام ایران سے جنگ ​​نہیں چاہتے۔ ہم قیمتوں میں کمی، بہتر میڈیکل سہولیات، اچھا روزگار اور کم اخراجات پر رہائش فراہم ہونے کے خواہاں ہیں۔ ہم ایسے لیڈر چاہتے ہیں جو عوام کے ساتھ ہوں، نہ کہ ایپسٹین جیسے ارب پتی طبقے کے ساتھ۔”

ورجینیا کے سینیٹر مارک وارنر نے بھی سوشل نیٹ ورک ایکس پر اپنے پیغام میں ایران کے خلاف جنگ کے بھاری اخراجات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا: "یہ بیرون ملک تنازعات ہمیں بہت ہی زیادہ مہنگے پڑ رہے ہیں، امریکی فوجی ٹرمپ کی لامتناہی غیر ملکی مداخلتوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔” مزید برآں، مختلف تحقیقاتی اداروں کی جانب سے انجام پانے والے  متعدد سروے اور ان کی رپورٹس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت ایران کے خلاف جنگ اور فوجی کارروائی کی مخالف ہے۔ ایسا ہی ایک سروے واشنگٹن پوسٹ کی انجام پایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرکت کرنے والوں کا 50 فیصد حصہ ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کے مخالف ہے۔ اسی طرح روئٹرز اور ایپسس فاونڈیشن کی جانب سے انجام پانے والے ایک مشترکہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر امریکی شہری ایران کے خلاف امریکہ کی فوجی دھمکیاں فوری طور پر بند ہو جانے کی حمایت کرتے ہیں۔ سروے کے نتائج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت، مشرق وسطی میں امریکہ کی فوجی مداخلت کے بھی مخالف ہیں۔ اسی طرح شرکت کرنے والے امریکی شہریوں کی اکثریت کے مطابق وہ نہیں سمجھتے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کاروائی امریکہ کو محفوظ بنا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے